مصری لڑکیاں ’خودمختاری‘ چاہتی ہیں

یارا کے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل نہیں ہے تاہم ان کے کمرے کی دیواروں پر سیاسی رہنماؤں کی تصاویر اور آزادی کے نعرے درج ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنیارا کے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل نہیں ہے تاہم ان کے کمرے کی دیواروں پر سیاسی رہنماؤں کی تصاویر اور آزادی کے نعرے درج ہیں

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی تنگ گلی میں ایک لڑکی یارا نے ارد گرد نظر دوڑائی، اس بات کو یقینی بنایا کہ کوئی پیچھا تو نہیں کر رہا اور پھر اپنی عمارت میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر لیا۔

یارا ایک نوجوان صحافی ہیں جو کہ اپنے والدین سے علیحدہ رہتی ہیں۔ اس ملک میں لڑکیاں شادی سے پہلے شازو نادر ہی اپنے گھروں کو چھوڑتی ہیں۔

یارا کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے اہداف حاصل کرنا ہیں اور انھیں اس بات کی پروا نہیں کہ لوگ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے لکھنے اور پڑھنے کے لیے زیادہ وقت درکار تھا لہٰذا میں نے قاہرہ میں مقیم اپنے بھائی سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کیا۔‘

یارا نے کہتی ہیں کہ ان کا خاندان شمالی سینا میں رہتا ہے اور وہاں ان کے کریئر کے لیے مناسب مواقعے نہیں تھے۔

یارا کے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل نہیں ہے تاہم ان کے کمرے کی دیواروں پر سیاسی رہنماؤں کی تصاویر اور آزادی کی مہم کے نعرے درج ہیں۔

یارا کے بقول ’چونکہ میری والدہ ایک سماجی کارکن ہیں، اس لیے انھوں نے میرا یہ مطالبہ مان لیا کہ میں علیحدہ رہوں تاہم انھیں اس مشکل کا سامنا ہے کہ میرے چچا ان سے شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ علیحدہ رہنے سے میری ساکھ خراب ہو رہی ہے۔‘

نہاد عبدالقمصان کا کہنا ہے کہ خواتین کی آزادی کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب لڑکیاں پڑھائی کے لیے بڑے شہروں میں آتی ہیں اور وہ یہ دیکھتی ہیں کہ زندگی اتنی مشکل نہیں ہے جتنی انھیں بتائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننہاد عبدالقمصان کا کہنا ہے کہ خواتین کی آزادی کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب لڑکیاں پڑھائی کے لیے بڑے شہروں میں آتی ہیں اور وہ یہ دیکھتی ہیں کہ زندگی اتنی مشکل نہیں ہے جتنی انھیں بتائی گئی تھی

مصر میں نوجوان لڑکیوں کے والدین سے علیحدہ رہنے کا رجحان 2011 میں عرب سپرنگ کی تحریک کے بعد سے بڑھ رہا ہے۔

مصر میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی ایک تنظیم اجپشن سنٹر فار ویمنز رائٹس کی ڈائریکٹر نہاد عبدالقمصان کا کہنا ہے کہ مصری خواتین نے مظاہروں میں شریک ہو کر سوسائٹی سے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا ہے ’خواتین کی علیحدگی کی دیوار ٹوٹ گئی اور وہ اپنے حقوق کے مطالبے کرنے میں زیادہ پراعتماد ہوگئیں۔‘

انھوں نے کہا کہ نوجوان لڑکیوں کے لیے گھر چھوڑنا ایک بتدریج عمل ہے کیونکہ سماج نے ان کی سوچ کو بالکل محدود کر رکھا ہے۔

نہاد عبدالقمصان کا کہنا ہے کہ خواتین کی آزادی کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب لڑکیاں پڑھائی کے لیے بڑے شہروں میں آتی ہیں اور وہ یہ دیکھتی ہیں کہ زندگی اتنی مشکل نہیں ہے جتنی انھیں بتائی گئی تھی۔

ایسی ہی ایک لڑکی منہا شرقاوے ہیں۔ وہ قاہرہ میں میڈیا کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا ڈگری حاصل کرنے کے بعد واپس گھر جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

منہا شرقاوے کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ایسی عمارت میں رہنے کا فیصلہ کیا جہاں ڈاکٹروں کے متعدد کلینک اور کمپنوں کے دفاتر ہیں تاکہ ان کا زیادہ نوٹس نہ لیا جائے۔

ان کا کہنا ہے ’ علیحدہ رہنے والی لڑکیوں کو ہراساں یا ان کا پیچھا کیے جانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ آزادی آپ پر قدرے زیادہ ذمہ داریاں ڈال دیتی ہے اور لڑکیوں کے لیے یہ میری نصیحت یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کی مرضی کے خلاف آزادی کی طرف مت جائیں۔

چند نوجوان لڑکیاں اپنے والدین کے رویے کو غیر مستحکم طور پر دیکھتی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنچند نوجوان لڑکیاں اپنے والدین کے رویے کو غیر مستحکم طور پر دیکھتی ہیں

تاہم چند نوجوان لڑکیاں اپنے والدین کے رویے کو غیر مستحکم طور پر دیکھتی ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم کی ملازم جو اپنے خاندان کے خوف سے اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، کہتی ہیں کہ والدین اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ ان کی بیٹیاں انھی کے پڑوس میں علیحدہ رہیں تاہم وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جانے اور وہاں اکیلی رہنا مان لیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مصر میں کہیں بھی رہنے والی لڑکی کی ہر چال پر لوگ نظر رکھتے ہیں۔ ان کے بقول ’لوگ ایسی خود مختار لڑکی کے ہر قدم پر نظر رکھتے ہیں کہ وہ کس وقت باہر نکلتی، کس وقت واپس آتی ہے، کیسے کپڑے پہنتی ہے؟ کس کے ساتھ باہر گھومتی ہے؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اجنبی اشخاص ایسی لڑکیوں کے والدین کی غیر موجودگی میں اپنی طرف سے ہی ان کے ’عزت کے محافظ‘ بن بیٹھتے ہیں۔

’میری ہم عمر لڑکیوں اور میری والدہ کی عمر کی خواتین کے درمیان سوچ کا خلیج زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ بڑی عمر کی خواتین ابھی بھی قدامت پسند خیالات رکھتی ہیں۔‘

یہی وجہ سے ہے کہ علحیدہ رہنے کی خواہشمند لڑکیاں اپنے والدین کے سامنے یہ موضوع اٹھاتے گھبراتی ہیں۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر الفت عالم کا کہنا ہے کہ بہت سی لڑکیاں ایک دوسرے سے تو اپنے خاندانوں سے الگ رہنے پر تبادلہ خیال کرتی ہیں تاہم صرف 35 فیصد ہی اپنے والدین سے اس مسئلے پر بحث کرتی ہیں۔

تاہم ڈاکٹر الفت عالم نے ’جعلی‘ آزادانہ زندگی کے بارے میں متنبہ کیا جہاں لڑکیاں علیحدہ رہتی ہیں مگر انھیں مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے خاندان کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ کیسز میں تو لڑکیاں اپنے دونوں بوجھ خود اٹھاتی ہیں۔

حجاب کرنے کے باوجود مجھے اپنے مالک مکان سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے: مائی عبدالغنی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحجاب کرنے کے باوجود مجھے اپنے مالک مکان سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے: مائی عبدالغنی

ایک مترجم کے طور پر نوکری کرنے والی ایک لڑکی مائی عبدالغنی کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے علیحدہ رہنے پر فخر ہے۔

ان نے کہا ’میں نے اپنی مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے کبھی اپنے باپ سے نہیں کہا، بلکہ میں اپنی مشکلات سے خود ہی نمٹتی ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حجاب کرنے اور مذہبی رجحان رکھنے کے باوجود، انھیں اپنے مالک مکان سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔

مائی عبدالغنی نے کہا کہ ان کے مالک مکان انھیں اپنی ذاتی جائیداد یا اولاد سمجھتے ہیں جنھیں کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور ان پر حکم چلایا جا سکتا ہے۔

’مثال کے طور پر مالک مکان ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم کہاں جاتے ہیں؟ کس سے ملتے ہیں، ہم کس وقت گھر واپس آئیں گے، ہمارے گھر میں کون آتا ہے چاہے وہ خواتین ہی کیوں نہ ہوں۔‘

چاہے لڑکی کے خاندان والے قریب میں ہی رہتے ہوں، علیحدہ رہنے والی لڑکیوں کے لیے خطرات ایک جیسے ہی ہیں۔

شائما اپنے والدین کے گھر سے 20 منٹ کی مسافت پر رہتی ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ان کا ایک ہمسایہ نے ان کا پیچھا کیا کرتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک بڑا کتا لے لیا جس کے بعد ان کے ہمسائے کا ان کے ساتھ رویہ بدل گیا۔

شائما نے علیحدہ رہنے کی خواہش رکھنے والی کسی بھی لڑکی کو نصیحت کی کہ وہ الگ رہنے کی صورت میں ایک کتا لے لیں۔