تسیپراس بیل آؤٹ پیکیج پارلیمان سے منظور کروانے کے لیے کوشاں

،تصویر کا ذریعہReuters
یونان کے وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس یورو زون کے ’بیل آؤٹ پیکیج‘ کو پارلیمان سے منظور کروانے کے لیے اپنے اتحادیوں سے بات چیت شروع کر رہے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ یونانی پارلیمان اس شرائط کی منظوری دے جن پر خود انھوں نے برسلز میں پیر کو ہونے والے یورپی رہنماؤں کے اجلاس میں اتفاق کیا ہے۔
اس اجلاس میں یونان کو اقتصادی بحران کا شکار یونان کی مالی مدد کا مشروط معاہدہ طے پایا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ یونانی ارکانِ پارلیمان بدھ تک ٹیکسوں میں اضافے، پنشن میں کمی اور لیبر مارکیٹ کو آزاد بنانے کے نئے قوانین منظور کریں۔
تاہم ملک کے وزیرِ دفاع اور حکومتی اتحاد کے رکن پانوس کمینوس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ان اقدامات کی حمایت نہیں کریں گے۔
اگر یہ معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو نہ صرف یونان کے بینک دیوالیہ ہو سکتے ہیں بلکہ ملک کو یورپی ممالک کی مشترکہ کرنسی یورو کا استعمال بھی ترک کرنا پڑ سکتا ہے۔
یورپی یونین کے 28 رکن ممالک کے وزرائے خزانہ منگل کو برسلز میں ملاقات کر رہے ہیں جہاں وہ یونان کی تازہ صورتحال پر بحث کریں گے۔
پیر کو 17 گھنٹے تک برسلز میں یورو زون کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ہی یونان کو تین برس میں 86 ارب یورو کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
اس معاہدے میں ضرورت پڑنے پر یونان کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کو ’ری شیڈول‘ کرنے کی بات تو کی گئی تاہم یونان کے قرضے معاف کرنے کی کوئی سہولت نہیں رکھی گئی ہے۔
یونانی وزیرِ اعظم ایلکسس تسیپراس نے معاہدہ طے پا جانے کے بعد کہا تھا کہ ہم نے ایک سخت جنگ لڑی ہے، قرض کے اصول و شرائط طے کرنے میں جیت حاصل کی ہے اور پورے یورپ کو عزت اور وقار کا پیغام دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ مشکل ہے مگر ہم نے ملک کے اثاثوں کو باہر جانے سے روک لیا ہے۔
تاہم معاہدہ طے پا جانے کے بعد یونانی وزیرِ اعظم جب واپس وطن پہنچے تو انھیں کفایت شعاری مخالف مظاہروں اور سرکاری ملازمین کی جانب سے بدھ کو 24 گھنٹے کی ہڑتال کے اعلان کا سامنا کرنا پڑا۔
بہت سے یونانیوں کا خیال ہے کہ اس معاہدے کی شرائط بہت سخت ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
یونانی وزیرِ دفاع نے اس صورتحال کو ’فوجی بغاوت‘ سے تشبیہ دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اگرچہ حکومت کا حصہ رہنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے۔
ایتھنز میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوئن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم تسیپراس رواں ہفتے ہی اپنی کابینہ میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر ایک نئی قومی حکومت کی تشکیل دے سکتے ہیں۔
ایلکسس تسپیراس جنوری میں کفایت شعاری کے خاتمے کے نعرے کے بل بوتے پر الیکشن جیت کر برسرِاقتدار آئے تھے۔
خیال رہے کہ یونان سال 2018 تک اپنے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے قرض خواہوں سے مزید 53.5 ارب یورو مانگ رہا ہے۔ یونان کو اس سے پہلے ہی دو بیل آؤٹ پیکیجز میں گذشتہ پانچ سال کے دوران 200 ارب یورو کا قرض دیا جا چکا ہے تاہم یونان 30 جون کو دوسرے بیل آؤٹ پیکیج کی قسط ادا نہیں کر سکا تھا۔
اس کے بعد سے یونان میں دو ہفتے سے بینک بند ہیں اور عوام کے کیش مشینوں سے رقم نکالنے پر بھی 60 یورو روزانہ کی حد مقرر کر دی گئی ہے۔









