’بوسہ دینے سے ڈر لگتا ہے؟‘

غزہ میں آپ کو گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ رکھنے کی اجازت نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنغزہ میں آپ کو گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ رکھنے کی اجازت نہیں ہے

غزہ کا نام لیتے ہی جنگ اور تصادم ذہن میں آتا ہے، محبت نہیں۔ لیکن میری کی ورتھ نے جب اپنے خاندان کے ہمراہ وہاں وقت گزارا تو انھیں وہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں رومان دیکھنے کا موقع ملا۔

ہمیں صبح کا وقت گزارنے کے بعد پتہ چلا کہ دوپہر کے کھانے میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہے۔ جس خاندان نے ہمیں کھانے پہ بلایا تھا، ان کا سب سے بڑا بیٹا احمد ہمارا مترجم اور رہنما تھا۔ اس کے ہمراہ اس کی دوست صفا بھی تھی۔ دونوں کی عمریں 20 کے لگ بھگ تھیں۔ احمد نے ہمیں اپنی ’محفوظ جگہ‘ دکھانے کی پیشکش کی۔

وہ سیڑھیوں سے ہمیں دو منزلیں اوپر لے کر گیا، جہاں ہمارہ استقبال چمک دار دھوپ اور غزہ کے مکانوں کی چھتوں کے نظارے نے کیا۔

مکان کی چھت، زیادہ بڑی نہیں تھی۔ ایک کونے میں تلسی، صعتر اور جنگلی پودینے کے پودے تھے۔ دوسرے کونے میں کبوتروں کا ایک ڈربہ تھا اور چھت کی دوسری طرف کھجور کے پتوں سے ایک چھوٹا سا چبوترا نما کمرہ بنا ہوا تھا۔ یہ احمد کی ’محفوظ جگہ‘ ہے۔

اس کمرے کے اندر ایک بستر اور دو پلاسٹک کی کرسیاں ہیں۔ احمد نے ہمیں فخر سے بیٹھنے کو کہا۔ ’یہ وہ جگہ ہے جہاں میں سکون اور خوشی محسوس کرنے کے لیے آتا ہوں۔‘

ایک بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ کھجور کے کچھ پتوں کو ایک ساتھ اکھٹا کر کے چبوترا بنانے سے احمد اور اس کا خاندان غزہ پر گرنے والے بموں سے بچ نہیں پائے گے لیکن جو بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ اس صائبان سے آپ کو ذہنی طور پر تحفظ ملتا ہے۔

ایسا تحفظ جو کہ غزہ کے لوگوں کی زندگی میں دردناک طور پر غیر موجود ہے۔

احمد کہتے ہیں ’چھاؤں میں بیٹھنے کے لیے میں دن کے وقت یہاں آتا ہوں۔ یہاں سکون ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ملتی ہے۔‘

اور یہ سکون آپ دیکھ بھی سکتے ہیں۔ ہم نے کچھ دیر خاموش رہ کر نیچے چلتی ہوئی زندگی کے شور کو دور سے سنا جو کہ تقریباً خاموش تھی۔ صرف پرندوں کی آواز اور پتوں کے سرسرانے کی مدھم آوازیں آرہی تھیں۔ کچھ وقت کے لیے بھول ہی گئے کہ ہم ایک کثیر آبادی والے اور کثرت سے بمباری کا نشانہ بننے والے شہر میں موجود ہیں۔

غزہ جیسے شہر کی حقیقت یہ ہے کہ اسے ہر وقت جنگ کا خطرہ رہتا ہے۔ میں نے احمد سے گزشتہ سال ہونے والی جنگ کے بارے میں پوچھا۔ اس نے مجھے جذباتی انداز میں بتایا ’میں اس بارے میں بات نہیں کرتا‘۔ یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھلک دکھائی دی۔ صفا نے کہا کہ اس نے سڑک پر لاشیں دیکھیں۔ اس کے دو دوست ہلاک ہوگئے۔

ان دونوں نے میرے کچھ سوالوں کا دلیری سے جواب دیا۔ اس کے بعد پتا نہیں کیسے گفتگو کا رخ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی طرف چلا گیا۔ اور ماحول خوشگوار ہو گیا۔

غزہ جیسے شہر کی حقیقت یہ ہے کہ اسے ہر وقت جنگ کا خطرہ رہتا ہے
،تصویر کا کیپشنغزہ جیسے شہر کی حقیقت یہ ہے کہ اسے ہر وقت جنگ کا خطرہ رہتا ہے

دونوں نے مجھے بتایا کے غزہ میں آپ کو گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ لڑکے لڑکیوں کے درمیان پیار محبت کے رشتے شادی تک ہی محدود ہوتے ہیں۔ لیکن یہ پابندیاں، نوجوانوں کو ملنے اور محبت میں گرفتار ہونے سے نہیں روک پاتیں۔

وہ اکثر چائے پر یا والدین کی موجودگی میں ملتے ہیں۔ احمد اور صفا کے درمیان پیار محبت کے موضوع کے حوالے سے جوڑ توڑ اور تکنیک پر بحث جاری رہی۔ احمد کی گفتگو سے لگا کے وہ گہری محبت میں گرفتار ہے۔

اس نے اپنے تین ماہ پرانے رشتے کے بارے میں بڑے جذباتی انداز میں گفتگو کی۔ صفا اس کی ہم عمر ہے لیکن اس کی دنیاوی سدھ بدھ احمد کے مقابلے کچھ زیادہ ہے۔ اس کی دو بار شادی ہو کر طلاق ہوچکی ہے۔ احمد کی باتوں سے اور اس سے مزید سوالات کرنے کے بعد معلوم ہوا کے اس نے اپنی گرل فرینڈ کو ابھی تک کِس یا بوسہ نہیں دیا۔ یہ بات صفا کے لیے حیران کن اور مزاحیہ تھی۔ اس نے کہا ’کیا؟ تم کہتے ہو کہ تمھیں اس سے محبت ہے اور تم نے ابھی تک اسے بوسہ نہیں دیا؟ تم پاگل ہو! اور کیوں نہیں دیا؟ تمھیں دڑ لگتا ہے؟‘

ہم نے بہت بے رحمی سے احمد کا مذاق اڑایا۔ لیکن اس کا کہنا تھا کہ وہ اس رشتے میں جلدی نہیں کرنا چاہتا اور اس لیے بھی کہ ان دونوں کو ابھی تک اکیلے ملنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ صفا نے اسے اپنی کوششیں تیز کرنے کے لیے کہا۔

تھوڑی ہی دیر میں کھانے کا وقت ہوگیا تھا اور ہمیں اپنی گفتگو روکنی پڑی۔ میں دو دن بعد دوبارہ ان سے ملنے گئی۔ میں اور صفا نے احمد کو شہر کے بیچ میں ملے اور پھر ہم سب اس کے گھر آگئے۔ اس نے بکتر بند گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ہمیں بتایا کہ اس کا دن اچھا گزرا ہے۔ اور ہم سے کہا کہ ہم اس سے پوچھیں کہ کل رات کیا ہوا۔

ہمارے پوچھنے پر اس نے خوشی سے بتایا کہ اس نے اپنی گرل فرینڈ کو ایک بار نہیں بلکہ تین بار بوسہ دیا۔ راستے میں ہم احمد اور اس کے رومانس کی کہانیاں سنتے رہے۔ آخر، ایسی باتیں بموں سے تو بہتر اور خوش گوار ہی ہیں۔