یونان: سرمائے پر کنٹرول کے اثرات کیا ہوں گے؟

ایسے افراد جن کے پاس غیر ملکی کریڈٹ اور بینک کارڈز موجود ہیں وہ انھیں استعمال کر سکیں گے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایسے افراد جن کے پاس غیر ملکی کریڈٹ اور بینک کارڈز موجود ہیں وہ انھیں استعمال کر سکیں گے

یونان کے وزیر اعظم الیکسس تسیپراس کا کہنا ہے کہ یونان میں سات جولائی تک بینک بند رہیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ سرمائے پر کنٹرول لاگو رہے گا۔ جس کا مطلب ہے کہ لوگوں کے لیے بینکوں سے رقوم نکلوانے کی بھی حد مقرر رہے گی۔

سات جولائی تک ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 60 یورو تک رقم نکلوائی جا سکے گی۔ تاہم اس دوران انٹرنیٹ بینکنگ کی جا سکے گی اور لوگ اپنے تمام تر بل آن لائن جمع کروا سکیں گے، البتہ ملک سے باہر پیسے نہیں بھیجے جا سکیں گے۔

یہ اقدامات یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے ہنگامی امدادی فنڈ میں اضافہ نہ کیے جانے کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں۔

حکومت سرمائے پر کنٹرول کے ذریعے بینکوں کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر نکلوائی جانے والی رقوم اور بیرون ملک پیسے بھجوانے پر حد مقرر کریں۔ اس کے علاوہ پہلے سے منظور شدہ تجارتی لین دین کے علاوہ بیرونِ ملک رقم کی منتقلی ممکن نہیں ہو سکے گی۔

یہ سب یونانی بینکوں سے مختلف کرنسیوں میں غیر ملکی بینکوں کو جانے والے یوروز کو روکنے اور جمع کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

سات جولائی تک ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 60 یورو تک رقم نکلوائی جا سکے گی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسات جولائی تک ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 60 یورو تک رقم نکلوائی جا سکے گی

اب تک یونانی حکومت کی جانب سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ ایسی پابندیاں نہیں لگانا چاہتی، لیکن یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے نقد رقوم کی فراہمی منجمد ہو گئی ہے اس لیے حکومت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا۔

ایسے افراد جن کے پاس غیر ملکی کریڈٹ اور بینک کارڈز موجود ہیں وہ انھیں استعمال کر سکیں گے بشرطیکہ اے ٹی ایم مشینوں میں رقوم موجود ہوں اور وہ ان مشینوں کے باہر لگی قطاروں کو عبور کر پائیں۔ اس سے یونان کو یہ فائدہ ہوگا کہ غیر ملکی پیسہ یونان میں آ سکے گا۔

اس سے قبل سنہ 2013 میں قبرص میں بینکنگ کے بحران اور یورپی یونین اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کے نتیجے میں قبرص کے بینکوں پر سرمائے پر کنٹرول کی اسی قسم کی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

البتہ قبرص میں رقوم نکلوانے کی مقرر کردہ حد بہت زیادہ تھی، یعنی روزانہ 300 یوروز۔

قبرص سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کو 1000 یوروز سے زیادہ لے جانے کی اجازت نہیں تھی جبکہ بذریعہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ بیرون ملک ادائیگیوں اور ٹرانسفر کی ماہانہ حد 5000 یوروز تھی۔

یہ پابندیاں جتنا زیادہ عرصہ نافذ العمل رہیں گی، ان کا معیشت پر اتنا ہی منفی اثر پڑے گا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیہ پابندیاں جتنا زیادہ عرصہ نافذ العمل رہیں گی، ان کا معیشت پر اتنا ہی منفی اثر پڑے گا

سرمائے پر کنٹرول کتنا عرصہ رہ سکتا ہے؟

اس کے لیے کوئی طے شدہ وقت نہیں ہے اور عام خیال یہی ہے کہ جیسے ہی اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی اور افراتفری کی حالت میں رقوم نکلوانے کا سلسلہ رک گیا تو سرمائے پر کنٹرول کی پابندی اٹھا لی جائے گی۔

یہ پابندیاں جتنا زیادہ عرصہ نافذ العمل رہیں گی، ان کا یونانی معیشت پر اتنا ہی منفی اثر پڑے گا، اور کاروباری لین دین اور نقد رقوم نکلوانے پر پابندیوں کے باعث خوردہ فروشی، سیاحت اور کمرشل سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔