یونانی پارلیمان کی بیل آؤٹ پیکج پر ریفرنڈم کروانے کی حمایت

یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور اس کو یورپی اتحاد میں رکھے جانے کی کوششوں میں یورپی یونیئن اور یونان کے کئی اجلاس ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنیونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور اس کو یورپی اتحاد میں رکھے جانے کی کوششوں میں یورپی یونیئن اور یونان کے کئی اجلاس ہوئے ہیں

یونان کی پارلیمان نےغیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرائط کے مطابق بیل آؤٹ ماننے کے لیے ریفرنڈم کروانے کے متنازعہ منصوبے کی حمایت کر دی ہے۔

یونان کی پارلیمان کی جانب سے یہ توثیق ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب چند ہی گھنٹے قبل یورو زون کے وزرائے خزانہ نے یونان کی جانب سے معاشی بحران سے نکلنے کے لیے دیےجانے والے بیل آؤٹ پیکج کی مدت میں 30 جون کے بعد تک توسیع کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل یونان کے وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے اعلان کیا تھا کہ دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے رکھی گئیں شرائط کو ماننے کے بارے میں ملک میں پانچ جولائی کو ریفرنڈم کرائیں گے۔

وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے پانچ جولائی کو ریفرنڈم کروانے کا اعلان کر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے پانچ جولائی کو ریفرنڈم کروانے کا اعلان کر رکھا ہے

سنیچر کو جب پارلیمان میں ریفرنڈم سے متعلق تحریک پیش کی گئی تو 300 اراکین میں سے 179 نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا

<link type="page"><caption> دوسری جانب یورو گروپ کے سربراہ جیرون ڈیشیبلوم نے کہا کہ بیل آؤٹ پیکج کے بارے میں بات چیت جمعے کو شروع ہوئی جب یونان نے حیران کن طور پر دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے رکھی گئیں شرائط کو ماننے کے بارے میں ریفرینڈم کرانے کا اعلان کیا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150626_greece_bailout_package_referendum_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

انھوں نے کہا کہ یونان نے یہ اعلان کر کے بات چیت کے عمل کو ختم کر دیا تھا۔

جیرون ڈیشیبلوم کے مطابق وزرائے خزانہ دوبارہ ملیں گے تاکہ نئے پیش آنے والے واقعات کے نتائج پر بات چیت کی جا سکے۔

ادھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا لوگارٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ یونان کی حکومت کی جانب سے بیل آؤٹ پیکج کے حوالے سے ریفرنڈم کا منصوبہ منگل کے بعد سے غیر موثر ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان تجاویز اور انتظامات کے بارے میں ووٹ دیں گے جن کا وجود ہی نہیں رہے گا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونان کے لیے اب بھی موقع ہے کہ وہ یورو زون کی تجاویز تسلیم کرنے کے لیے اپنے ذہن کو بدلے۔

یونانی وزیراعظم ایلکسس تسیپراس ملک میں پچھلی حکومت کے دوران مفلوج کر دینے والی کٹوتیوں اور سماجی بہبود کی سہولیات کے خاتمے کے خلاف اقدامات کے وعدے پر اقتدار میں آئے تھے اور ان کا مطالبہ رہا ہے کہ یونان پر واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملنی چاہیے۔

انھوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے اصلاحات کے بدلے میں یونان کے بیل آؤٹ پیکج میں پانچ ماہ کی توسیع کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ یونان کو عالمی مالیاتی اداروں اور مشترکہ کرنسی یورو کے رکن ملکوں سے تقریباً سوا سات ارب یورو کے ہنگامی قرض کی ضرورت ہے۔

یونان کا مجموعی قرض اُس کی مجموعی سالانہ قومی پیداوار کے دگنے کے لگ بھگ ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنیونان کا مجموعی قرض اُس کی مجموعی سالانہ قومی پیداوار کے دگنے کے لگ بھگ ہے

اگر جون کے اختتام سے پہلے یہ قرض نہ ملا تو یونان ڈیڑھ ارب یورو سے زیادہ مالیت کے پرانے قرض عالمی مالیاتی اداروں کو واپس ادا نہیں کر پائے گا۔

<link type="page"><caption> قرض کی ادائیگی میں ناکامی کا مطلب دیوالیہ پن ہو گا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/06/150618_greece_debt_crisis_euro_update_zz.shtml" platform="highweb"/></link> جس کے باعث یونان کو یورو کی مشترکہ کرنسی سے خارج کر دیا جائے گا جو یورپی اتحاد سے اخراج پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔

یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور اس کو یورپی اتحاد میں رکھے جانے کی کوششوں میں یورپی یونین اور یونان کے کئی اجلاس ہوئے ہیں۔

ان مذاکرات میں یونان نے امیروں اور کاروباری اداروں پر نئے ٹیکسوں سمیت سمجھوتے کے لیے نئی تجاویز پیش کی تھیں۔

یونان کا مجموعی قرض اُس کی مجموعی سالانہ قومی پیداوار کے دگنے کے لگ بھگ ہے اور ماہرین کے بقول اگر اُسے ادائیگی میں سہولت نہ ملی تو یونان کے لیے ہر کچھ عرصے بعد نئے قرضوں کے حصول کے چکر سے نکلنا مشکل ہو گا۔