ایران اور امریکہ کی تعلیمی سفارت کاری

،تصویر کا ذریعہiranusa
امریکی جامعات کے سینئیر نمائندوں کے ایک گروپ نے ایران کا دورہ کیا ہے جو خیال ہے کہ 70 کی دہائی کے بعد سے وہاں جانے والا سب سے بڑا تعلیمی وفد ہے۔
امریکہ کے ساتھ باہمی تعلقات میں گرمجوشی کے اشاروں کے تناظر میں اس وفد نے ایران کی 13 جامعات اور تحقیقی اداروں کا دورہ بھی کیا۔
اس اہم علامتی دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان اُن مضبوط تعلیمی روابط کی بحالی کی ابتدا ہوئی ہے جو 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے موجود تھے۔
اُس وقت امریکی جامعات میں غیر ملکی طالب علموں کی سب سے بڑی تعداد ایران سے ہی آتی تھی۔
اِس وقت تقریباً 11 ہزار ایرانی طلبہ امریکہ میں پڑھ رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں چینی طلبہ کی تعداد پونے تین لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ خیال ہے کہ کوئی ایک بھی ایرانی باہمی تبادلے کے پروگرام کے تحت امریکہ میں زیرِتعلیم نہیں ہے۔
کئی عشروں کی تلخی اور شکوک و شبہات کے بعد اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
ایران جانے والے وفد کی قیادت نیویارک میں قائم ادارے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے ایلن گڈمین کر رہے تھے۔ یہ ادارہ امریکہ اور دوسرے ملکوں میں باہمی تبادلے کے تعلیمی پروگراموں کی پشت پناہی کرتا ہے۔
واپسی پر پروفیسر گڈمین کا کہنا تھا کہ اُن کے وفد کو بھرپور اشارے ملے ہیں کہ ایرانی مغرب کے ساتھ مزید اشتراک چاہتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس مقصد میں پچھلی نسل کے وہ لوگ مددگار ہیں جو امریکہ میں پڑھ چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ اطلاعات بھی آ چکی ہیں کہ امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے مقابلے میں ایران کی موجودہ کابینہ میں تاریخ میں سب سے زیادہ ایسے لوگ شامل ہیں جنھوں نے امریکی جامعات سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ ان میں سان فرانسسکو سٹیٹ یونیورسٹی اور ڈینور یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے وزیرخارجہ جواد ظریف سرفہرست ہیں۔
امریکی وفد تہران، شیراز اور اصفہان گیا اور پروفیسر گڈمین کے مطابق نہ صرف وفد کو ہرجگہ گرمجوشی ملی بلکہ انھوں نے امریکی اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے زبردست ستائش بھی دیکھی۔
اِس وفد کے دورے کے جواب میں ایرانی جامعات سے بھی ایک وفد امریکی اداروں کا دورہ کرے گا اور دونوں ملکوں کی جامعات میں مزید تعاون کے لیے اِس حوالے سے ایک رپورٹ بھی شائع کی جائے گی۔
ایران میں امریکی وفد کے دورے کی کوریج سے بھی باہمی تعلقات میں نئے دریچے کھلنے کے اشارے ملتے ہیں۔
ایران کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق تہران یونیورسٹی کے چانسلر نے امریکی وفد کو بتایا کہ اُن کے ادارے کے ساتھ ماضی میں کئی امریکی جامعات کے قریبی تعلقات تھے جنھیں بحال کرنے پر تہران یونیورسٹی تیار ہے۔
امریکی وفد کا دورہ ایران کے جوہری پروگرام پر جامع سمجھوتے کے لیے جاری عالمی مذاکرات کے پس منظر میں ہوا ہے۔ یہ مذاکرات جون کے آخر تک مکمل ہونے ہیں۔
پروفیسر گڈمین، جو جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں سکول آف فارن سروس کے سابق ڈین رہ چکے ہیں، اُن کے مطابق اِس نوعیت کے تعلیمی روابط دراصل تعلیمی سفارت کاری ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ تعلیمی سفارت کاری ماضی میں چین اور ویت نام کے ساتھ آزمائی جا چکی ہے اور اب کیوبا کے ساتھ بھی ایسے ہی روابط متوقع ہیں۔
پروفیسر گڈمین چین کی طرف سے پانڈا سفارت کاری کی یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی بھی دوسرے ملک کو پانڈا کا چینی تحفہ بغیر کسی باقاعدہ سمجھوتے کے دراصل دوستی کی خواہش کا اظہار ہوتا تھا۔ اُن کے مطابق شعبۂ تعلیم بھی یہی کردار ادا کر رہا ہے۔
پچھلے سال ایک امریکی یونیورسٹی نے ایران میں آن لائن کورسز کرانے شروع کیے ہیں جو اِس سے پہلے امریکی پابندیوں کے باعث ممکن نہ تھے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف میسا چیوسٹس ایمہرسٹ نے ایڈوانسڈ انجینئیرنگ اور سائنس کے بعض شعبوں میں ایرانیوں کے داخلے پر عائد پابندی بھی ختم کر دی ہے۔
لیکن اِس پالیسی کی مخالفت بھی ہو رہی ہے۔
لوئی زیانا سے سینٹ کے رپبلکن رکن ڈیوڈ وٹر کے بقول یہ پالیسی امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ فی الوقت امریکہ نے جوہری خطرات کے باعث ایران پر سخت پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں اور ایسے میں امریکی ٹیکس گزاروں کی رقم سے چلنے والے اداروں میں ایرانی طالب علموں کی تربیت سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔
جامعات خود ایران میں اعتدال پسندوں اور سخت گیر قدامت پسندوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی کا میدان بن گئی ہیں۔
گذشتہ ماہ 700 سے زیادہ ایرانی پروفیسروں نے حکومت کے نام ایک کھلے خط میں شکایت کی تھی کہ انتہائی قدامت پرست حلقوں کے دباؤ پر بہت سے لیکچروں اور پروگراموں کی منسوخی کی وجہ سے تعلیمی آزادی خطرے میں ہے۔
اسی طرح شیراز یونیورسٹی میں ایرانی پارلیمان کے ایک رکن کو پرتشدد انداز میں خطاب کرنے سے روک دیا گیا تھا۔
پروفیسر گڈمین کے مطابق امریکی وفد کے دورے سے انھیں اخبارات کی سرخیوں سے آگے دیکھنے کا موقع ملا اور اعتماد سازی کی ایسی کوششوں کوحال سے زیادہ مستقبل پر مرکوز ہونا چاہیے۔








