امریکی کانگریس ایرانی جوہری معاہدے کی راہ میں رکاوٹ؟

- مصنف, پی جے کرولی
- عہدہ, سابق امریکی اسسٹنٹ سٹیٹ سیکریٹری
وائٹ ہاؤس نے بظاہر ایک مرحلہ عبور کر لیا ہے اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے امکانات پر نظرثانی کے لیے کانگریس کے ساتھ ایک فریم ورک معاہدہ طے پاگیا ہے۔
کئی برسوں سے تباہی کے دہانے پر موجود ایک خطرناک صورت حال کو آگے بڑھانے کی پالیسی اور انتظامی اور قانونی شاخوں کی خود ساختہ بحرانوں پر قابو پانے کی نااہلیت کے باعث، یہ حیرت انگیز طور پر امریکہ کی منقسم حکومت کے طریقۂ کار کو ظاہر کرتی ہے۔
یہاں کیا ہو رہا ہے؟
حقیقت پسندی اور سیاست کا تعمیری اشتراک، ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی طرح ہی نظرثانی کے معاہدے میں مخالفین کی جانب خلل پیدا کیا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے حقیقت پسندی کی بات کرتے ہیں۔
اب جبکہ امریکہ کی کیوبا کے بارے میں پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جو دیگر حالات میں اہم خبر ہوتی، ایران کے ساتھ کامیاب جوہری معاہدہ اوباما کی بطور صدر روز اول سے ہی فوقیت رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
لیکن جوہری معاہدہ اتنی تبدیلی کا حامل نہیں دکھائی دے رہا جتنا اسے چھ سال پہلے سمجھا جا رہا تھا، عراق، شام، لیبیا اور یمن میں ہونے والی پر تشدد تبدیلیوں نے مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے دیگر تمام حالات پر پردہ ڈال دیا ہے۔
اور ایران، بشارالاسد اور نیم ریاستی قوتوں کی مدد سے خطے میں سنی اقتدار کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ اس تبدیل ہوتی تاریخ کا دوسرا رخ رہے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن صدر براک اوباما کے نقطۂ نظر سے جوہری معاہدے کی مدد سے ممکنہ اسرائیلی حملے اور خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا خطرہ کم کر سکتا ہے۔
اوباما کی خارجہ پالیسی دیکھتے ہوئے پالیسی کی کامیابی کا تناسب کہیں گنا بلند دکھائی دے رہا ہے۔
اب جبکہ انتظامیہ کی ایران کے ساتھ معاہدے کی پیچیدہ تفصیلات پر مذاکرت جاری ہیں، اوباما کا یہ خدشہ درست ہے کہ کانگریس مزید پابندیاں لگا سکتی ہے۔
حکمت عملی کے طور پر، اگر یہ جوہری معاہدہ ناکام ہوا تو اس کی وجہ امریکہ نہیں بلکہ ایران ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بہرحال ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات دوطرفہ ہیں۔ سینیٹروں کی جانب سے واضح اکثریت میں کسی بھی طرح کے قانونی کردار کی حمایت، اوباما نے کسی نہ کسی طرح سمجھداری سے مذاکرات کے اختتام تک کانگریسی جائزے کی رفتار اور شدت محدود کر دی ہے۔
سیاسی تناظر میں رپبلکن قیادت میں نئی کانگریس کی پہلے سو دنوں میں کارکردگی شاندار رہی ہے۔
قومی سکیورٹی کے شعبے میں کانگریس نے اوباما کی تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں کے خلاف ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔
نومنتخب سینیٹر، ارکنسا کے سینیٹر ٹام کوٹن نے اپنے 46 ہم منصوں کا آیت اللہ کو امریکی آئین کے طریقہ کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے ایک خط پر دستخط کرنے کے لیے قائل کیا، جو ایک بار پھر امریکہ کو بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کرنے کا سوال اٹھاتا ہے۔
رپبلکنز کو مزید موثر اندازحکومت دکھانے کی ضرورت تھی، سینیٹ کے خارجی تعلقات کی کمیٹی کے چیئرمین، سینیٹر باب کورکر نے، جنھوں نے اس خط پر دستخط نہیں کیے، مہارت کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے ساتھ دوطرفہ سمجھوتہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جبکہ متوقع معاہدے کے بارے میں بیانات دیے جا رہے ہیں اور اسرائیل کی حمایت کے بارے میں ضمانت دی جارہی ہے، ایسا دکھائی نہیں دے رہا کہ کانگریس یہ راستہ روکے گی یا صدارتی ویٹو ہونے کی صورت میں اسے نظرانداز کرے گی۔
دوسری جانب اس وقت 60 سینیٹروں کی حمایت حاصل کرنا مشکل ہے، اور اگر اس معاہدے میں وہ خلل ڈالتے ہیں تو اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔
رپبلکنز کی حمکمت عملی یہ ہے کہ وہ اوباما کو جوہری معاہدے کرنے دیں اور پھر اس صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران اس کی مخلافت کریں۔ دستخط کرنے والے 47 سینیٹرز میں سے تین نے اپنی امیدواری کا اعلان کرچکے ہیں۔
اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا تو اس پر عمل درآمد کے لیے چھ سے 12 مہینے صرف ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پابندیوں کے حوالے سے پہلا ایگزیکٹیو حکم نامہ صدارتی انتخابی کی مہم کے دوران سامنے آئے گا۔
معاہدے کا دفاع اور اس سے منسلک پالیسی صرف اوباما ہی نہیں بلکہ ہلری کلنٹن کے لیے بھی چیلنج ہو گی۔
سنہ 2008 کی انتخابی مہم کی طرح سنہ 2016 میں بھی ایک دلچسپ سوال اٹھایاجائے گا۔







