’اوباما جون تک حتمی معاہدے کے لیے پراعتماد‘

ایران کےعبوری معاہدہ طے پانے کے بعد صدر اوباما نے دو اپریل کو وائٹ ہاؤس سے بیان جاری کیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایران کےعبوری معاہدہ طے پانے کے بعد صدر اوباما نے دو اپریل کو وائٹ ہاؤس سے بیان جاری کیا

وائٹ ہاوس کے مطابق امریکی صدر کو یقین ہے کہ رواں سال جون کے اختتام تک ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ اگرچہ سائنسی ماہرین پرامید ہیں کہ ایران کو جوہری ہھتیار بنانے سے روکا جانا ممکن ہوگا تاہم اب بھی بہت سا کام کرنا باقی ہے۔

امریکی صدر نے جمعے کو کانگرس میں موجود اُن چاروں رہنماؤں سے رابطہ کیا جو اس معاہدے پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ جمعرات کو امریکہ اور چھ عالمی طاقتوں کا ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق عبوری معاہدہ طے پایا تھا۔

ایران کے ساتھ عبوری معاہدہ طے پانے پر اسرائیل کے خدشات سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وائٹ ہاوس کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی صدر کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جو اسرائیل کے لیے خطرے کا باعث ہو۔

دنیا نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ ایران کو اپنی سرزمین پر یورینیئم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے، اور یہ افزودگی کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے: حسن روحانی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشندنیا نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ ایران کو اپنی سرزمین پر یورینیئم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے، اور یہ افزودگی کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے: حسن روحانی

یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب میں اعلان کیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی شرائط پر اس وقت تک عمل پیرا ہوتے رہیں گے جب تک چھ عالمی طاقتیں بھی ایسا ہی کریں گی۔

انھوں نے کہا: ’دنیا کو جان لینا چاہیے کہ ہم دھوکہ نہیں دینا چاہتے۔‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر عالمی طاقتوں نے ’کسی دن کسی اور راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا‘ تو ایران بھی اپنے لائحۂ عمل کا انتخاب کرے گا۔

جمعرات کو معاہدے کے فریم ورک پر دستخط ہوئے جس کی رو سے ایران جوہری سرگرمیاں محدود کر دے گا اور ان کے بدلے میں اس پر عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کر دی جائیں گی۔

اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ یہ معاہدہ پورے خطے اور خاص طور پر اسرائیل کے لیے سنگین خطرے کا باعث ہے۔

انھوں نے کہا: ’اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرتا جو کسی ملک کو ہمیں تباہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کے اجازت دے۔‘

صدر روحانی نے یہ بات دہرائی کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدے سے ظاہر ہو گا کہ ایران ’دنیا کے ساتھ تعاون کر سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایران کے ’دو چہرے نہیں ہیں،‘ اور اگر پی فائیو پلس ون (امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور جرمنی) نے حتمی معاہدے کی پاسداری کی تو ایران بھی ویسا ہی کرے گا۔

صدر روحانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا نے یہ بات تسلیم کر لی ہے کہ ایران کو اپنی سرزمین پر یورینیئم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے، اور یہ افزودگی کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے۔

معاہدے کے خبر سن کر بہت سے ایرانی سڑکوں پر نکل آئے اور اپنی خوشی کا اظہار کیا
،تصویر کا کیپشنمعاہدے کے خبر سن کر بہت سے ایرانی سڑکوں پر نکل آئے اور اپنی خوشی کا اظہار کیا

انھوں نے کہا: ’افزودگی اور ہماری تمام جوہری ٹیکنالوجی صرف ایران کی ترقی کے لیے ہیں۔ یہ دنیا کے کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‘

2006 سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے چھ قراردادیں منظور کر رکھی ہیں جن میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جوہری سرگرمیاں بند کرے۔

صدر روحانی نے کہا: ’آج کا دن ایرانی تاریخ میں یادگار رہے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ جنگ لڑیں یا پھر عالمی طاقتوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے کوئی چیز نہیں ہو گی، اور ایک تیسرا راستہ بھی ہے۔ ہم دنیا کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔‘

جمعرات کی رات معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد کئی لوگ تہران کی سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر بھی معاہدے کی حمایت میں تبصرے کیے۔