’معاہدے سے پہلے ایران سےاسرائیل کے وجود کو تسلیم کرائیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایران اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے گا۔
انھوں نے یہ بات اپنی سکیورٹی کی کابینہ سے ایک ملاقات کے بعد کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی کابینہ ’اس مجوزہ معاہدے کی مخالفت میں متحد ہے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’اسرائیل یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے حتمی معاہدے میں یہ بات واضح طور پر یقینی بنائی جائےکہ ایران ہمیشہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے گاـ‘
اس معاہدے کو ایک ’خراب‘ معاہدہ قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ معاہدہ پورے خطے اور دنیا کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بنے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ہوتے ہی ایران پر عائد سب پابندیاں ہٹا لی جائیں گی اور یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں ہٹائی جائیں گی جب ایران خطے اور خطے کے باہر اپنی دہشت پھیلا رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں مذاکرات کے لمبےسلسلے کے بعد ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں معاہدے کے ڈھانچے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے اسے ایک تاریخی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس پر عمل ہوا تو دنیا زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
معاہدے کے تحت ایران نے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں کمی لانے کے لیے سینٹری فیوجوں کی تعداد میں دو تہائی کمی پر اصولی اتفاق کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ ایران کے پاس اس وقت موجود یورینیئم کا زیادہ تر ذخیرہ تلف کر دیا جائے گا اور اس کے بدلے میں اس پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔
لوزین میں آٹھ دن کی گفت و شنید کے بعد ایران اور یورپی یونین نے فریم ورک پر اتفاقِ رائے کا اعلان کیا جبکہ جامع جوہری معاہدہ 30 جون تک تشکیل دے دیا جائے گا۔
اس معاہدے پر عمل درآمد کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور اگر ایران نے خلاف ورزی کی تو دنیا جان جائے گی۔
امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ فریم ورک پر مہینوں کی ’سخت اور اصولی سفارت کاری کے بعد اتفاق ہوا ہے اور یہ ایک عمدہ معاہدہ ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ اگر حتمی معاہدہ بھی طے پاتا ہے تو ہم اپنی سلامتی کو لاحق سب سے بڑے خطروں میں سے ایک کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔‘
امریکہ کے مطابق اس معاہدے کے خاکے میں درج ذیل شرائط شامل ہیں:

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران اپنے سینٹری فیوجوں میں دو تہائی کمی لائے گا اور اپنے ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیئم کو بھی کم کرے گا۔
ایران کے فالتو سینٹری فیوج اور افزدوگی کی تنصیبات پر عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی آئی اے ای اے نظر رکھے گا۔
آئی اے ای اے ایران کی تمام جوہری تنصیبات کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی رہے گی۔
ایران اپنے ارک میں واقع بھاری پانی کے ری ایکٹر میں ایسی تبدیلیاں کرے گا کہ وہاں ہتھیار بنانے کے اہل پلوٹونیئم نہ بنایا جا سکے۔
ایران پر عائد امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی، لیکن اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا تو انھیں دوبارہ عائد کر دیا جائے گا۔
ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مغربی ممالک نے ایران کی جانب سے جوہری بم بنانے کے خدشے کے پیشِ نظر اس پر سنگین پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
ایران مذاکرات کے ذریعے ان پابندیاں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تھا۔
اسرائیل اس معاہدے سے ناراض ہے اور اس سے قبل وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے ٹوئٹر ہی پر کہا تھا: ’کوئی بھی معاہدہ ہو، اس میں ایران کے جوہری پروگرام کی صلاحیتوں کو خاصی حد تک رول بیک کرنا اور اس کی دہشت گردی اور جارحیت کو ختم کرنا لازمی ہو گا۔‘
بعدازاں انھوں نے امریکی صدر براک اوباما سے فون پر بات کی اور کہا کہ اگر طے شدہ ڈھانچے پر معاہدہ ہوتا ہے تو وہ اسرائیل کی بقا کے لیے خطرہ ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو یقین دلایا کہ ’معاہدہ کسی طرح سے بھی دہشت گردی کی پشت پناہی اور اسرائیل کو لاحق خطرات کے حوالے سے ایران کے بارے میں امریکہ کے خدشات کو کم نہیں کرتا۔‘
امریکی کانگریس میں حزبِ مخالف کے ارکان نے بھی اس عبوری معاہدے پر تنقید کی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس کے اراکین کو حتمی معاہدے کے جائزے کا حق دیا جائے۔







