ایران جوہری مذاکرات کی حتمی مہلت میں توسیع

یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ فیڈریکا موگیرینی اور ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف سوئٹزلینڈ کے شہر لوزین میں پی +1 کے اجلاس میں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ فیڈریکا موگیرینی اور ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف سوئٹزلینڈ کے شہر لوزین میں پی +1 کے اجلاس میں

امریکی حکام نے کہا ہے کہ چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ہونے والے مذاکرات بدھ کو بھی جاری رہیں گے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ اتنی ’پیش رفت‘ ہو گئی ہے جس کی بنا پر منگل کی رات کی حتمی مہلت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

تاہم ترجمان خاتون میری ہارف نے کہا کہ اب بھی ’کئی متنازع مسائل‘ باقی ہیں۔

عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے عوض ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کر دے۔

اس سے قبل توقع تھی کہ منگل رات گرینچ کے وقت کے مطابق دس بجے ایک بیان جاری کر دیا جائے گا جس میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے اہم نکات کا ذکر ہو گا۔

لیکن اس بات کے کوئی آثار نہیں ہیں کہ متنازع مسائل کا حل تلاش کر لیا گیا ہے۔

ایرانی مصالحت کار حامد بائدی نژاد نے کہا کہ ’مذاکرات اس وقت ختم ہوں گے جب مسائل کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ ہم گھڑی کی طرف نہیں دیکھ رہے۔‘

امریکہ، برطانیہ، چین، روس، فرانس اور جرمنی کے مندوبین تقریباً ایک ہفتے سے ایرانی حکام سے بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ 18 ماہ سے جاری ان جوہری مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔

معاہدے کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات میں بھی تیزی آگئی تھی اور منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب میں روسی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ’میرے خیال میں معاہدہ طے پانے کے بہت روشن امکانات ہیں۔‘

اس سے ایک روز قبل روسی وزیر خارجہ یہ کہتے ہوئے مذاکرات سے الگ ہو گئے تھے کہ وہ تبھی واپس آئیں گے جب انھیں کسی معاہدے کے حقیقی امکانات پیدا ہوتے دکھائی دیں گے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتیں نومبر 2013 میں ایک عبوری معاہدے پر اتفاق کے بعد طویل المدتی معاہدے کی حتمی مدت میں دو مرتبہ اضافہ کر چکی ہیں۔

امریکی کانگریس نے پہلے ہی متنبہ کر دیا ہے کہ اگر 31 مارچ تک اس سلسلے میں اتفاقِ رائے نہ ہوا تو وہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرے گی تاہم امریکی صدر براک اوباما پہلے ہی ان پابندیوں کو ویٹو کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مستقبل میں ایران کی یورینیئم کی افزودگی پر تحقیق و ترقی اور اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کی رفتار وہ معاملات ہیں جن پر اتفاقِ رائے نہیں ہو پا رہا۔