ایران کےجوہری مذاکرات میں’پیش رفت‘

مذاکرات کی ڈیڈلائن میں مزید ایک روز کی توسیع کی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنمذاکرات کی ڈیڈلائن میں مزید ایک روز کی توسیع کی گئی ہے

ایران اور روس کے وزرا خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے لیے عبوری معاہدہ طے کرنے کے سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عبوری معاہدے کے لیے 31 مارچ کو ختم ہونے والی ڈیڈ لائن میں مزید ایک روز کی توسیع کی گئی ہے۔ یہ مذاکرت سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں بدھ کو دوبارہ شروع ہوں گے۔

روس کے وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تمام اہم امور‘ پر اتفاق ہوگیا ہے تاہم مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ اب بھی بہت سے معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔

یاد رہے کہ عالمی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا چاہتی ہیں اور اس کے بدلے میں ایران پر عائد پابندیوں کو ختم کیا جانا متوقع ہے۔

روس اور ایران کے حکام کے بیان سے قبل امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا تھا کہ اتنی ’پیش رفت‘ ہو گئی ہے جس کی بنا پر منگل کی رات کی حتمی مہلت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

تاہم ترجمان خاتون میری ہارف نے کہا کہ اب بھی ’کئی متنازع مسائل‘ باقی ہیں۔

اس سے قبل توقع تھی کہ منگل رات گرینچ کے وقت کے مطابق دس بجے ایک بیان جاری کر دیا جائے گا جس میں طے پانے والے جوہری معاہدے کے اہم نکات کا ذکر ہو گا تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔

اب بھی یہ واضح نہیں ہے کہ سب سے زیادہ متازع امور کو حل کیا جا چکا ہے یا نہیں۔ تاہم روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حتمی طور پر وزرا خارجہ کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’ہم تمام پہلوؤں کے حوالے سےمسئلے کے آخری حل کے لیے ایک اصولی معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔‘

انھوں نے روسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ ’ اسے ( معاہدے کو) اگلے چند گھنٹوں یا شاید ایک دن میں لکھ لیا جائے گا۔‘

ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا کہ کچھ تھوڑا بہت حاصل ہو گیا ہے۔

’ مجھے امید ہے کہ ہم بدھ کو اپنا کام مکمل کر لیں گے۔‘

خیال رہے کہ چھ بڑی عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران کم ازکم ایک سال تک کوئی جوہری ہھتیار تیار نہ کرے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسکی ایسی کوئی خواہش نہیں ہے۔

ایرانی مصالحت کار حامد بائدی نژاد نے کہا کہ ’مذاکرات اس وقت ختم ہوں گے جب مسائل کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ ہم گھڑی کی طرف نہیں دیکھ رہے۔‘

امریکہ، برطانیہ، چین، روس، فرانس اور جرمنی کے مندوبین تقریباً ایک ہفتے سے ایرانی حکام سے بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ 18 ماہ سے جاری ان جوہری مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔

خیل رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتیں نومبر 2013 میں ایک عبوری معاہدے پر اتفاق کے بعد طویل المدتی معاہدے کی حتمی مدت میں دو مرتبہ اضافہ کر چکی ہیں۔

امریکی کانگریس نے پہلے ہی متنبہ کر دیا ہے کہ اگر 31 مارچ تک اس سلسلے میں اتفاقِ رائے نہ ہوا تو وہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرے گی تاہم امریکی صدر براک اوباما پہلے ہی ان پابندیوں کو ویٹو کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔