’امریکی کانگریس کو جوہری معاہدے کے جائزے کا حق ملےگا‘

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی صدر نے اس بل کی مخالفت ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت امریکی کانگریس کو ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے معاہدے کا جائزہ لینے اور اسے منظور یا مسترد کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
یہ بل امریکی کانگریس میں موجود دونوں جماعتوں کے ارکان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اسے سینیٹ کی امورِ خارجہ کی کمیٹی سے بھی متفقہ طور پر منظور کروایا گیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما نے اس بل پر دستخط کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں ایک عبوری معاہدہ مذاکرات کے طویل سلسلے کے بعد دو اپریل کو طے پایا ہے۔
اس کی رو سے ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کر دے گا اور ان کے بدلے میں اس پر عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کر دی جائیں گی۔
ایران اور امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں نے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 30 جون کی حد مقرر کی ہے۔
امریکہ میں حزبِ اختلاف کی جماعت رپبلکن پارٹی کے کچھ ارکان اس معاہدے کے حق میں نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران نے پہلے ہی بہت رعایات حاصل کی ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا ہمیشہ سے اصرار رہا ہے کہ اگر کسی معاہدے کے نتیجے میں امریکی کانگریس کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں اٹھائی جانی ہیں تو اس سلسلے میں کانگریس کی بات بھی سنی جانی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کانگریس میں منظور کیے جانے والے بل میں ابتدائی طور پر صدر اوباما کی جانب سے ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کے عمل کو 60 دن کے لیے روکا گیا تھا تاہم ترمیم شدہ مسودے میں یہ مدت کم کر کے 30 دن کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما صدارتی احکامات کے تحت ایران پر عائد کی گئی پابندیاں تو خود ختم کر سکتے ہیں لیکن ان کے پاس کانگریس کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں اٹھانے کا اختیار نہیں۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق:
- ایران اپنے سینٹری فیوجوں میں دو تہائی کمی لائے گا اور اپنے ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیئم کو بھی کم کرے گا۔
- ایران کے فالتو سینٹری فیوج اور افزدوگی کی تنصیبات پر عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی آئی اے ای اے نظر رکھے گا۔
- آئی اے ای اے ایران کی تمام جوہری تنصیبات کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی رہے گی۔
- ایران اپنے ارک میں واقع بھاری پانی کے ری ایکٹر میں ایسی تبدیلیاں کرے گا کہ وہاں ہتھیار بنانے کے اہل پلوٹونیئم نہ بنایا جا سکے۔
- ایران پر عائد امریکہ اور یورپی یونین کی پابندیاں مرحلہ وار ختم کی جائیں گی لیکن اگر ایران نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو انھیں دوبارہ عائد کر دیا جائے گا








