اوباما ایران کی ’بے جا حمایت‘ کے معاملے پر برہم

پانامہ میں ہونے والے ایک علاقائی اجلاس کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ وہ اس بارے میں ’پوری طرح مثبت‘ ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار سے دور رکھنے کے لیے یقینی طور پر ضامن ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپانامہ میں ہونے والے ایک علاقائی اجلاس کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ وہ اس بارے میں ’پوری طرح مثبت‘ ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار سے دور رکھنے کے لیے یقینی طور پر ضامن ہے

امریکی صدر براک اوباما نےایران کے جوہری پروگرام سے نالاں امریکی کانگریس کے اراکین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے پر امریکہ کی بے جا حمایت کا معاملہ بہت زیادہ طول پکڑ گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی کانگریس میں شامل بعض ری پبلکنز کا موقف ہے کہ جوہری معاہدے میں ایران کو بہت زیادہ چھوٹ دی گئی ہے۔

31 مارچ کو دنیا کی چھ اہم قوتوں کے ساتھ مذاکرات کے طویل سلسلے کے بعد ایران کے حتمی جوہری پروگرام کے لیے ایک عبوری معاہدے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

<link type="page"><caption> چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے عبوری معاہدے کے اہم نکات</caption><url href="www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/04/150402_iran_agreement_zis" platform="highweb"/></link>

’حامیوں میں گرما گرمی‘

اس معاہدے کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے باز رکھنے کے لیے اس پر عائد پابندیوں میں مرحلہ وار کمی کرنے کی بات بھی شامل ہے۔

معاہدے کے اس خاکے کے بعد جامع معاہدے کے لیے 30 جون کی ڈیڈ لائن طے کی گئی ہے اور آگے بھی سخت مرحلہ درپیش ہے۔

پاناما میں ہونے والے ایک علاقائی اجلاس کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ وہ اس بارے میں ’پوری طرح مثبت‘ ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار سے دور رکنے کے لیے یقینی طور پر ضامن ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ خارجہ پالیسی چلانے کے لیے ایسی بے جا مداخلت کوئی طریقہ نہیں۔

انھوں نے کہا: ’مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کل ہر کوئی مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرنے پر اس قدر کیوں محنت کر رہا ہے۔‘

اس سے قبل ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ حتمی معاہدے کے نتیجے میں ایران سے تمام پابندیاں فوری طور پر ہٹا لی جائیں۔

صدر اوباما نے سنیچر کو کہا کہ خامنہ ای صرف اپنے ملک کی داخلی سیاست سے خطاب کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’روحانی پیشوا جیسے اہم خطاب کے باوجود انھیں اپنے حلقے کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے۔‘

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ حتمی معاہدے کے نتیجے میں ایران سے تمام پابندیاں فوری طور پر ہٹا لی جائیں

،تصویر کا ذریعہkhamenei.ir

،تصویر کا کیپشنایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ حتمی معاہدے کے نتیجے میں ایران سے تمام پابندیاں فوری طور پر ہٹا لی جائیں

’حتمی معاہدے کو تیار کرنے کے شاید بہت سے طریقے ہوں گےجس سے ان کے وقار، ان کے نظریات، ان کی سیاست کو اطمینان حاصل ہو لیکن وہ ہمارے بنیادی قابل عمل مقصد پورا کرتا ہو۔‘

انھوں نے بعض ریپبلیکنز کے رویوں پرتنقید کی جو کہ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے بارے میں بہت سے خدشات رکھتے ہیں۔

’قبل ازوقت ناکامی‘

گذشتہ ہفتے سینیٹر جان میک کین نے کہا تھا کہ معاہدے کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی وضاحتیں ایران کے سپریم لیڈر کی توضیحات سے کم قابل اعتبار ہیں۔

خیال رہے کہ عبوری معاہدے کا اعلان یوروپین یونین اور ایران کے درمیان آٹھ دنوں کے مذاکرات کے بعد ہوا تھا۔

امریکی کانگرس میں اس ڈیل پر اعتراض کرنے والےحتمی معاہدے کا جائزہ لینے کا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔