برطانیہ کا مجوزہ قومی پرندہ رابن

رابن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنعوام کی اکثریت نے رابن کو برطانیہ کے قومی پرندے کے طور پر منتخب کیا ہے

برطانیہ میں ایک جائزے میں دو لاکھ سے زیادہ لوگوں نے رابن کو برطانیہ کے قومی پرندے کے طور پر چنا ہے۔

پرندوں کے ماہر ڈیوڈ لنڈو، جنھوں نے برطانیہ کے قومی پرندے کے لیے یہ مہم چلائی تھی کہتے ہیں کہ رابن ہماری قومی روح میں کرسمس کارڈ پن اپ کی طرح سمو گیا ہے۔

ان کا اب ارادہ ہے کہ وہ حکومت سے کہیں کہ وہ سرکاری طور پر رابن کو قومی پرندہ تسلیم کرے۔

سرخ رنگ کی چھاتی والے اس پرندے کو 34 فیصد ووٹ ملے، جبکہ 12 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر الو اور 11 فیصد ووٹوں کے ساتھ کوئل نما پرندہ بلیک برڈ رہا۔

بی بی سی کے پروگرام سپرنگ واچ کے پریزینٹر ڈیوڈ لنڈو، جنھوں نے یہ منصوبہ گذشتہ برس شروع کیا تھا، کہتے ہیں کہ دوسرے ممالک کی طرح برطانیہ کا بھی کوئی قومی پرندہ ہونا چاہیے۔

یہ ووٹ آن لائن، سکولوں میں بیلٹ بکسوں اور پوسٹ کے ذریعے ڈالے گئے جس میں 224,000 سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا۔

الو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندوسرے نمبر پر الو کو منتخب کیا گیا

سب سے پہلے رابن کو دوسرے نو پرندوں کے ساتھ 60 کی فہرست میں سے چنا گیا۔ آخری دس کے لیے ووٹنگ مارچ میں شروع ہوئی اور سات مئی تک جاری رہی۔

دوسرے پرندوں میں رین، سرخ چیل اور کنگ فشر چوتھے، پانچویں اور چھٹے جبکہ میوٹ سوان ساتویں نمبر پر آئی۔ اس کے بعد بلو ٹِٹ، ہین ہیریئر اور پفن آئے۔

بلیک برڈ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنتیسرا نمبر کوئل نما پرندے بلیک برڈ کا آیا

ڈیوڈ لنڈو نے بی بی سی 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ ’رابن ہر جگہ ہے۔ اور میرے خیال میں بہت سے لوگ رابن کو ان پرندوں میں شمار کریں گے جن کو وہ درحقیقت پہچان سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ زیادہ تر ووٹر، تقریباً 60 فیصد، وہ لوگ تھے جو برڈ واچر نہیں تھے اور نہ ہی ان کا تعلق ماحولیاتی تحفظ کی کسی تنظیم سے تھا، مطلب یہ کہ اب بالکل نئے لوگ قدرت میں دلچسپی لے رہے ہیں۔‘