یورپ: چڑیوں کی تعداد میں 90 فی صد کمی

پرندوں کی تعداد میں کمی سے انسانوں کو متعدد قسم کے نقصانات ہو سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنپرندوں کی تعداد میں کمی سے انسانوں کو متعدد قسم کے نقصانات ہو سکتے ہیں

گذشتہ 30 سالوں میں یورپ میں پرندوں کی تعداد میں حیرت انگیز کمی دیکھی گئي ہے۔

سائنسی جریدے ’ایكالوجي لیٹرز‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں تخمینہ پیش کیا گیا ہے کہ یورپ میں گذشتہ تین دہائیوں میں تقریباً 42 کروڑ پرندے کم ہوگئے ہیں۔

تحقیق کے مطابق پرندوں کی تعداد میں اس حیرت انگیز کمی کی وجہ کاشت کاری کے جدید طور طریقے اور پرندوں کے قدرتی مسکنوں کو ہونے والے نقصانات ہیں۔

مطالعے کے مطابق مینا اور گوريا سمیت چڑیوں کی آبادی میں تقریباً 90 فیصد کی کمی آئی ہے۔

دوسری جانب نایاب نسل کے پرندوں کی تعداد میں حالیہ برسوں میں اضافہ بھی ہوا ہے، تاہم اسے پرندوں کے تحفظ سے منسلک کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

گوریوں کی تعداد میں دنیا بھر میں کمی دیکھی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنگوریوں کی تعداد میں دنیا بھر میں کمی دیکھی جا رہی ہے

پرندوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی رائل سوسائٹی کے رچرڈ گریگري کا کہنا ہے: ’یورپ کے پرندوں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہم جن طریقوں سے ماحولیات کا تحفظ کر رہے ہیں، وہ پرندوں کی کئی اقسام کے لیے نقصان دہ ہیں۔‘

سائنس دانوں کے مطابق پرندوں کی تعداد میں کمی سے انسانی سماج کو متعدد قسم نقصانات ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل گریگوری نے بتایا: ’اس مسئلے کے حل کے لیے ہمیں تمام پرندوں اور ان کے قدرتی مسکنوں کے تحفظ اور انھیں قانونی تحفظ کا بندوبست کرنا پڑے گا۔‘

پرندوں کی آبادی سے متعلق اس تجزیے میں یورپ کے 25 ممالک میں پرندوں کی 144 اقسام کو شامل کیا گیا ہے۔