بلوچستان میں سعودی شہزادے کا’بے دریغ‘ شکار

،تصویر کا ذریعہJimfbleak
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک سعودی شہزادے کے نایاب پرندے تلور کے بے دریغ شکار کی باز گشت بلوچستان اسمبلی کے رواں اجلاس میں بھی سنائی دی ہے۔
اسمبلی کے رواں اجلاس میں نایاب پرندے تلور کے مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ شکار کا معاملہ زیر بحث آنے کی وجہ وہ رپورٹ بنی ہے جو انگریزی اخبار ڈان میں گذشتہ دنوں شائع ہوئی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق سعودی شہزادے فہد بن سلطان نے اس سال 11 جنوری سے 21 جنوری تک ضلع چاغی کے مختلف علاقوں میں تلور کا شکار کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں اپنے قیام کے دس دنوں کے دوران 100 پرندوں کا شکار کرنا تھا مگر اس کے برعکس انھوں نے 21 سو پرندے شکار کیے۔
اسمبلی کے اجلاس میں ایک نکتہ اعتراض پر جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے تلور کے شکار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’تین چار دن پہلے ایک اخبار میں خبر آئی تھی کہ سعودی شہزادے نے 21 سو تلور شکار کیے جو اس پرندے کی نسل کشی کے مترادف ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’عرب ہمارے بھائی ہیں، وہ آئیں ہم ان کی خدمت کریں گے، لیکن ان کو اس پرندے کی نسل کشی سے روکنا چاہیے۔‘
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے جنگلات و جنگلی حیات عبیداللہ بابت نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کو بتایا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کی بجائے شکار کے اجازت نامے صوبائی حکومت کو جاری کرنے چاہییں۔
ہجرت کرنے والا یہ پرندہ سردیوں کے موسم میں روس سے نسبتًا کم سرد علاقوں کا رخ کرتا ہے۔ جس کے باعث موسمِ خزاں کے دوران بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ، چاغی، خاران ، واشک ، کیچ، لسبیلہ اور جھل مگسی سمیت متعدد علاقے عرب شیوخ کی شکار گاہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان عرب شیوخ کا تعلق سعودی عرب کے علاوہ دیگر خلیجی ممالک سے بھی ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عرب شہزادوں کو وفاقی حکومت اس پرندے کے شکار کی اجازت دیتی ہے جبکہ ان کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمےداری صوبائی محکمۂ داخلہ کی ہوتی ہے۔
جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف بلوچستان کے سربراہ یحییٰ موسیٰ خیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ادارے نے بلوچستان حکومت سے اس پرندے کی شکار پر پابندی کا باقاعدہ مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم نے کئی بار اس پرندے کے بے دریغ شکار کے معاملے کو اٹھایا ہے بلکہ اس مرتبہ ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ نایاب پرندوں کی نسل کے خاتمے کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر جو معیار اختیار کیے جا رہے ہیں وہ یہاں بھی اختیار کیے جائیں۔ ہم نے اس سلسلے میں صوبائی وزرا، سیکریٹری جنگلات اور دیگر حکام سے بات کی ہے کہ وہ اس پرندے کے شکار پر پابندی لگائیں۔‘







