امریکہ برطانیہ کی’خاص دوستی‘ کا امتحان؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لگتا ہے کہ خفیہ معلومات کے تبادلے اور قومی سلامتی کے گھمبیر مسائل کی دنیا میں برطانیہ اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔

حال ہی میں جب برطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلن امریکیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے تو ان کے کوٹ کے کالر پر برطانیہ اور امریکہ دونوں کے پرچم چمک رہے تھے۔

مارچ میں اپنے خطاب میں مائیکل فیلن کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ہم دونوں ملکوں نے مل کر جنگ عظیم دوئم میں آمریت اور ظلم کے بت توڑے، اور پھر سرد جنگ میں اشتراکیت کا مقابلہ کیا، اسی طرح آج ہماری مشترکہ جنگ دولتِ اسلامیہ کے خلاف ہے۔ داعش دونوں ممالک کے شہریوں کو شام میں نہ صرف اغوا کر چکی ہے بلکہ ان کے سر بھی قلم کر چکی ہے جس سے دونوں ملکوں میں اس دہشتگرد گروہ کے خلاف جذبے کو نیا عزم ملا ہے۔‘

برطانوی وزیرِ دفاع کے اس عزم کے باجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور انٹیلی جنس امور پر تناؤ پایا جاتا ہے۔

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شاید ان دنوں برطانیہ اور امریکہ کے مشہور ’خصوصی تعلق‘ کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ معروف تجزیہ کار ڈیرک مِکس کے ایک تازہ ترین جائزے کے مطابق’ یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ خصوصی تعلق واقعی انحطاط کا شکار ہے اور کیا امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ واقعی اثرو رسوخ کم ہو رہا ہے۔‘

’ کئی بڑے عالمی امور میں شاید آج کل امریکہ کی سوچ یہ ہے کہ برطانیہ کو وہ مرکزی حاصل نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔

کئی امور میں برطانیہ خود کو امریکی قیادت سے الگ کر چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنکئی امور میں برطانیہ خود کو امریکی قیادت سے الگ کر چکا ہے۔

دوسری جانب گذشتہ چند ماہ میں امریکی اہلکار کئی مرتبہ برطانیہ پر تنقید کر چکے ہیں کہ اس نے دفاعی اخراجات میں کمی کر دی ہے۔ امریکیوں کے بقول وہ ’پریشان ‘ ہیں کہ برطانیہ دفاعی اخراجات میں اپنی کل قومی پیداوار کا دو فیصہ بھی خرچ نہیں کر رہا جبکہ نیٹو کے ہر رکن ملک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کم از کم دو فیصد رقم نیٹو کو دے گا۔

اس کے علاوہ برطانیہ نے شام پر بمباری کی تجویز سے بھی اچانک آخری وقت پر منہ پھیر لیا تھا۔اس معاملے میں اور اس کے علاوہ کئی دیگر امور میں بھی برطانیہ خود کو امریکی قیادت سے الگ کر چکا ہے۔

مائیکل فیلن کی تقریر کے بعد ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ آیا ان کے امریکہ آنے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرنا تھا۔ اس پر وزیر دفاع نے خفگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس بات سے قطعاً اتفاق نہیں کرتے کہ دونوں ملکوں میں کسی قسم کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اس موقعے پر مائیکل فیلن نے حاضرین کو یہ بھی یاد دلایا کہ ایک دفعہ صدر اوباما نے برطانیہ اور امریکہ کے باہمی تعلقات کو ’ناگزیر دوستی‘ سے تعبیر کیا تھا۔

لیکن اگر اکیلے میں بات کریں تو صدر اوباما کے مشیر ’خصوصی تعلق‘ سے کچھ اور مراد لیتے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ جب ہمارے ہاں خصوصی تعلق کی بات ہوتی ہے تو ہم منہ ہی منہ میں ہنستے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے اہلکار کے الفاظ تحقیر آمیز سنائی دیتے ہیں، لیکن ان کی نیت یہ نہیں تھی۔ امریکی انتظامیہ کے دیگر افسران کی طرح مذکورہ اہلکار بھی دونوں ملکوں کے خصوصی تعلق کو مانتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک اس تعلق کی اہمیت اتنی نہیں جتنی برطانوی اہلکاروں کے ذہن میں ہے۔

سوچ کے اس فرق کے باوجود دونوں ملک بہت سے کام مل کر کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسوچ کے اس فرق کے باوجود دونوں ملک بہت سے کام مل کر کرتے ہیں۔

دونوں ملکوں میں تناؤ کی ایک وجہ یہ ہے کہ قومی سلامتی اور خفیہ معلومات جمع کرنے کے معاملوں میں دونوں ملکوں کی حکمتِ عملی ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔

امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل پی جے ڈرمر کے بقول ’برطانیہ کا نو آبادیاتی دور کا خمار‘ ابھی اترا نہیں جو کہ اس کے لیے مہلک ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اپنے عالمی کردار کے حوالے سے اب بھی پُرجوش ہے۔

لندن کے کِنگز کالج سے منسلک تجزیہ کار ڈیوڈ اکو کہتے ہیں کہ امریکہ کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے وہ ہر دم تیار ہے۔ ’ہم چڑھائی کرنا جانتے ہیں، ہم یہ کرتے ہیں، ہم وہ کرتے ہیں۔ برطانیہ کے مقابلے میں امریکہ بہت پُرجوش ہے۔‘

سوچ کے اس فرق کے باوجود دونوں ملک بہت سے کام مل کر کرتے رہے ہیں۔

سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کی تاریخ طویل ہے، ایم آئی سِکس کے ساتھ سی آئی اے کی قربت دیکھ کر دیگر امریکی خفیہ اداروں کے اہلکار حسد کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہیڈن کے بقول ایک امریکی انٹیلی جنس اہلکار نے ان سے کہا کہ اس کی خواہش تھی کہ سی آئی اے اس کی بھی اتنی آؤ بھگت کرتی جتنی وہ برطانوی اہلکاروں کی کرتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہی نہیں ہوتے، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں میں تعاون جاری رہتا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلن (دائیں) نے اس سال مارچ میں امریکہ کا دورہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیر دفاع مائیکل فیلن (دائیں) نے اس سال مارچ میں امریکہ کا دورہ کیا تھا

زیادہ تر ماہرین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے خصوصی تعلق میں آج کل برطانیہ کا حصہ کم ہو گیا ہے لیکن اس کے باجوجود بھی برطانیہ اس تعلق کی قدر کرتا ہے۔

واشنگٹن اور بغداد میں امریکیوں کے ساتھ کام کا تجربہ رکھنے والے ایک برطانوی سینیئر اہکار نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر مجھے بتایا کہ انھیں برطانیہ اور امریکہ کے خصوصی تعلق کا ذاتی تجربہ حاصل ہے۔

’جب امریکہ کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے چل رہے ہوتے ہیں تو آپ کا چہرہ روشن ہو جاتا ہے۔ اور اگر آپ امریکہ کے لیے زیادہ مفید نہیں رہتے تو آپ خود کو ایک ایسی جگہ پاتے ہیں جہاں تاریکی اور سخت سردی کا راج ہوتا ہے۔