’ملک لوٹنے کے لیے کوشاں سابق دہشت گردوں پر رحم نہیں کیا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ ان شہریوں پر رحم نہیں کیا جائے گا جو شدت پسند گروہوں میں شامل ہونے کے بعد پچھتا رہے ہیں اور واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا یہ بیان ان رپورٹس کے ردِعمل میں سامنے آیا ہے جن میں یہ اطلاعات تھیں کہ تین آسٹریلیوی شہری شام میں اسلامی شدت پسند گروہوں میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد وطن واپس آنا چاہ رہے ہیں۔
ان تین افراد میں سے ایک کے وکیل کا موقف ہے کہ ان کے موکل کی جہاد کے حوالے سے قائم فریب نظری ختم ہو چکی ہے اور وہ دیگر افراد کو اس اقدام سے روکنے کے لیے سمجھا سکتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے لوٹنے کی خواہش رکھنے والوں کو ان الفاظ میں خبردار کیا کہ ’آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا، آپ پر مقدمہ چلایا جائے گا اور قید کیا جائے گا۔‘
’جرم جرم ہے‘
آسٹریلیوی قانون کے مطابق کوئی بھی شہری دوسرے ملک میں جا کر مسلح گروہوں کی حمایت نہیں کرسکتا۔ تاہم حکومت کا اندازہ ہے کہ تقریباً 90 آسٹریلوی شہری مشرقِ وسطیٰ میں موجود شدت پسند گروہوں کے ساتھ ملکر لڑ رہے ہیں۔
وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے اپنے بیان میں اس جملے کو دو بار دہرایا کہ جرم، جرم ہے۔
انھوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ ’اگر آپ باہر جا کر آسٹریلیا کے قانون کو توڑیں گے، اگر آپ باہر جا کر شدت پسندی کے نام معصوم لوگوں کو قتل کریں گے، اگر آپ ’ایک اسلامی قاتل‘ کے طور پر باہر جائیں گے تو مشکل ہے کہ ہم آپ کو وطن میں واپسی کے لیے خوش آمدید کہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلیا میں ملکی میڈیا کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے گروہ جس نے شام اور عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے میں شمولیت اختیار کر نے والے تین افراد ملک واپس لوٹنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فئیر فیکس میڈیا رپورٹ کے مطابق ان تین میں سے دو افراد کے ساتھ سات ماہ قبل بات چیت کا آغاز ہوا تھا تاہم وزارتِ خارجہ کے ان افسران کی جو اس عمل میں مدد دیں گے حفاظت کے حوالے سے کچھ خدشات ہیں۔
وکیل راب سٹرے دولتِ اسلامیہ کے گروہ میں شامل ہونے والے افراد میں سے ایک کے وکیل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے موکل نے شام میں النصرہ اور فری سرین آرمی کے ماتحت علاقوں میں طبّی عملے میں کام کیا ہے۔
انھوں نے نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ ایک نامعلوم شخص نے ان کے موکل کے مشرقِ وسطیٰ جانے کے بعدان کا پاسپورٹ منسوخ کیا۔
وکیل راب سٹرے کے مطابق ان کے موکل کی واپسی کے حوالے سے آسٹریلین پولیس کے ساتھ جاری مذاکرات رکے ہوئے ہیں اور انھیں توقع نہیں کہ موجودہ صورتحال میں آسٹریلیوی شہری کی واپسی ہو سکتی ہے۔
راب سٹرے سمجھتے ہیں کہ وطن واپسی کی خواہش رکھنے والے آسٹریلیوی شہری کو واپس لا کر ان سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ آسٹریلیا کی حکومت کو دولتِ اسلامیہ کی جانب سے چیلنج کا سامنا ہے جو وہاں کے نوجوان طبقے کو انتہا پسندانہ نظریات کی جانب مائل کر کے تنظیم میں بھرتیاں کر رہی ہے۔
رواں سال مارچ میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا کی انسدادِ دہشت گردی یونٹ نے اگست 2014 سے فروری 2015 کے درمیان 76 ہزار مشکوک مسافروں کو ایئر پورٹ پر ملک سے باہر جاتے وقت روکا تھا۔
رواں ماہ کے آغاز پر بھی ایک 17 سالہ نوجوان کو گھر پر چھاپہ مارکر گرفتار کیا گیا ان پر الزام تھا کہ وہ بم حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔









