سزائے موت کے آسٹریلوی قیدیوں کی خاندان سے آخری ملاقات

ہیلن چن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناینڈریو چن کی والدہ ہیلن چن جیل میں ملاقات کے بعد بہت پریشان نظر آئیں

انڈونیشیا میں منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا پانے والے آسٹریلوی قیدیوں نے بظاہر اپنے اہلخانہ سے آخری ملاقات کی ہے۔

آسٹریلوی شہریوں اینڈریو چن اور میئون سکوماران کے رشتہ دار بہت پریشان نظر آرہے تھے یہاں تک کے سکوماران کی بہن بیہوش ہوگئی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق اینڈریو چن اور میئون سکوماران سمیت سات دیگر افراد کو مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات فائرنگ سکواڈ کے ذریعے موت کی سزا دے دی جائے گی۔

ان میں سے ایک فرانسیسی شہری کی اپیل ابھی بھی زیر غور ہے۔

انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں منشیات کے خلاف قانون بہت سخت ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں حق بجانب ہیں کیوں کہ ملک کو منشیات سے متعلق مسائل درپیش ہیں۔ انڈونیشیا میں انسداد منشیات کے قومی ادارے کے مطابق منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہر روز 33 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق اینڈریو چن اور میئون سکومارن کے خاندان والوں کو ان سے ملاقات کے لیے پانچ گھنٹے دیے گئے تھے اور انہیں ان کی خواہش کے مطابق روحانی پیشواؤں سے نہیں ملنے دیا گیا بلکہ حکام کی جانب سے منتخب کردہ عیسائیوں سے ہی ملاقات کرائی گئی۔

ملاقات کے بعد ان کے بھائیوں نے میڈیا کے ذریعے ایک مرتبہ پھر رحم کی اپیل کی اور مائیکل چن نے کہا کہ یہ آخری ملاقات کسی ’ٹارچر‘ سے کم نہیں تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا ’میں نے آج وہ دیکھا ہے جس سے کبھی بھی کسی خاندان کو نہ گزرنا پڑے۔ وہاں سے باہر آتے ہوئے آخری مرتبہ الوداع کہنا اذیت سے کم نہیں تھا۔ کسی بھی خاندان کو اس تجربے سے نہ گزرنا پڑے۔‘

چنٹو سکومارن کا کہنا تھا’ بات کرنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ ہم نے سزائے موت کے بارے میں بات کی۔۔۔ میں (انڈونیشیا کے) صدر سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ رحم کریں، برائے مہربانی میری ماں اور میری بہن کو میرے بھائی کو دفن نہ کرنا پڑے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق موت کی سزا پانے والی ایک اور قیدی فلپائن کی میری جین ویلوسو کے رشتہ داروں کی جیل میں آمد پر فلپائن سے تعلق رکھنے والے پادری نے انہیں دعائیں دیں۔

پادری نے بتایا کہ ’وہ خاندان بہت خاموش تھا۔ یہ بہت ہی اداسی کی بات ہے اور ان میں بہت درد نظر آ رہا ہے۔‘

ان نو قیدیوں میں نائجیریا کے تین، ایک برازیلی، ایک گھانا، اور فرانسیسی شہری بھی شامل ہے اور سب کو سنیچر کو ان کی سزا پر عملدرآمد کے بارے میں بتا دیا گیا تھا۔ قانون کے مطابق حکام کو کسی بھی مجرم کو موت کی سزا دینے سے 72 گھنٹے قبل اس کا نوٹس جاری کرنا ہوتا ہے۔

آسٹریلوی شہریوں اینڈریو چن اور میئون سکوماران

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی شہریوں اینڈریو چن اور میئون سکوم جنہیں 2006 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی

آسٹریلیا کے وزیر خارجہ جولی بشپ نے انڈونیشیا سے اپیل کی تھی کہ اس کے شہریوں کی سزا پر عملدرآمد اس وقت تک روک دیا جائے جب تک اس مقدمے میں بدعنوانی کے معاملے میں تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتی۔

یاد رہے کہ اس سال کے آغاز میں یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ اس مقدمے میں شامل ججوں نے کم سزاؤں کے بدلے رقم کی مانگ کی تھی۔

لیکن مقدمے میں شامل ایک جج نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اس میں نہ تو کوئی سیاسی مداخلت ہوئی ہے اور نہ کسی نے رشوت لی ہے۔

اینڈریو چن اور میئون سکومارن کو دیگر سات آسٹریلوی شہریوں سمیت سنہ 2005 میں بالی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گروپ کے قبضے سے آٹھ کلو سے زائد ہیروئین برآمد کی گئی تھی۔

انڈونیشیا سے آسٹریلیا ہیروئین کی سمگلنگ کی کوشش کرنے والے اس گروہ کو ’بالی نائن‘ کا نام دیا گیا تھا۔

چن اور سوکرمان کو اس گروہ کا لیڈر ثابت ہونے کی وجہ سے سزائے موت جبکہ دیگر سات قیدیوں کو زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نشہ آور ادویات کی سمگلنگ کے خلاف سخت ترین قوانین موجود ہیں اور یہاں موت کی سزا پر عملدرآمد کی چار سالہ پابندی کو 2013 میں ختم کر دیا گیا تھا۔