انسانی سمگلروں سے نمٹنے کے لیے یورپی بحری فوج کی منظوری

،تصویر کا ذریعہAFP
یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرا نے لیبیا سے انسانوں کی یورپ سمگلنگ کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے بحری فوج تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔
تنظیم کے امورِ خارجہ کی ذمہ دار رہنما فیدریکا مغیرینی کا کہنا ہے کہ یہ فوج ایک اطالوی ایڈمرل کی زیرِ قیادت آئندہ ماہ سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دے گی اور اس کا صدر دفتر روم میں ہوگا۔
<link type="page"><caption> یورپی کمیشن کی تارکینِ وطن کے لیے ’متنازع تجاویز‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/05/150511_mediterranean_migrant_crisis_eu_quota_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے صحافیوں کو یہ بات بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں پیر کو یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے دفاع اور خارجہ امور کے وزرا کی ملاقات کے بعد بتائی۔
یورپی ممالک کو افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے بحیرۂ روم کے راستے یورپ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکینِ وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافے کا مسئلہ درپیش ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق رواں سال 60 ہزار کے قریب افراد نے یہ خطرناک راستہ اختیار کیا ہے اور اب تک پانچ ماہ میں اس کوشش کے دوران بحیرۂ روم میں 1800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جنگوں یا غربت کے باعث اپنا ملک ترک کرنے والے بیشتر افراد کا تعلق شام، اریٹریا، نائجیریا اور صومالیہ سے ہے۔
فیدریکا مغیرینی کے مطابق یورپی بحری فورس کا آپریشن تین مراحل پر مشتمل ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA
ابتدائی طور پر یہ فوج انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کی سرگرمیوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرے گی جس کے بعد یہ ان سمگلروں کی کشتیوں کی نشاندہی اور ان کی تلاشی کی ذمہ داریاں نبھائے گی اور تیسرا مرحلہ ان کشتیوں کی تباہی کے لیے کارروائی ہو گی۔
یورپی حکام کے مطابق اس کا مقصد اس بزنس ماڈل کو منتشر کرنا ہے جس کی وجہ سے بحیرۂ روم کے راستے انسانی سمگلنگ ایک منافع بخش کاروبار بن رہا ہے۔ یورپی وزیر کا کہنا تھا کہ ’یہ بات صرف کشتیوں کی تباہی کی نہیں بلکہ ان انسانی سمگلروں کے کاروبار اور نیٹ ورک کی تباہی کی ہے۔‘
برطانیہ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاریوں میں ہے جس کے تحت یورپی یونین کو انسانی سمگلروں کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا قانونی جواز مل جائے گا۔
برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کے مطابق لیبیا ان تجاویز کا مخالف ہے، باوجود اس کے کہ بیشتر انسانی سمگلر لیبیا میں سرگرم ہیں۔
فیدریکا مغیرینی نے یہ بھی کہا اس مہم کی کامیابی کے لیے لیبیائی حکام کا تعاون کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ ’ہم ایک شراکت کے متلاشی ہیں۔ لیبیائی حکام کو اپنی سرزمین پر بحری اور زمینی سرحدوں پر ایک ذمہ داری نبھانی ہوگی۔‘







