وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو سویڈن میں اپیل کا حق

وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانج سنہ 2012 سے سویڈن کو حوالگی سے بچنے کے لیے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں رہ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانج سنہ 2012 سے سویڈن کو حوالگی سے بچنے کے لیے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں رہ رہے ہیں

سویڈن کی سپریم کورٹ نے جولین اسانژ کو مبینہ طور پر ریپ کرنے کے الزام میں جاری ہونے والے گرفتاری کے وارنٹ کے خلاف اپیل کرنے کا حق دے دیا ہے۔

وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولین اسانژ سنہ 2012 سے سویڈن کو حوالگی سے بچنے کے لیے لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سویڈن میں استغاثہ ان سے سنہ 2010 میں لگنے والے ریپ کے الزامات کے حوالے سے پوچھ گچھ کرنا چاہتے ہیں۔ جولین ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ سویڈن کو ان کی حوالگی سے امریکہ کو ان پر خفیہ دستاویزات شائع کرنے کے الزام میں چارج لگانے کا موقع مل جائے گا۔

اس سے قبل گذشتہ برس نومبر میں جولین اسانژ کی جانب سے کی گئی اپیل کو سویڈن کی اپیل کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے انھیں اب اپیل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ اعلان اس کے بعد سامنے آیا ہے جب سویڈن استغاثہ کئی برسوں تک اسانژ کے سویڈن واپس آنے پر اصرار کرنے کے بعد ان سے تفتیش کرنے کے لیے لندن جانے پر گذشتہ ماہ رضامند ہو گئے تھے۔

جولین اسانژ سنہ 2010 میں سویڈن کے دورے کے دوران دو خواتین سے ملاقات کے بعد لگنے والے مبینہ ریپ کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہزاروں خفیہ دستاویزات کے شائع ہونے کے بعد سے ان کی امریکہ کو حوالے کرنے کی ایک سازش کا حصہ ہے۔

تاہم سابق کمپیوٹر ہیکر پر امریکہ میں کسی جرم کا الزام نہیں لگایا گیا ہے اور نہ ہی ان کی حوالگی کے لیے برطانیہ کو کوئی درخواست کی گئی ہے۔

سویڈن کی عدالت کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے انھیں گرفتاری کے معاملے پر اپیل کرنے کی اجازت دی ہے۔

تاہم اس کی سماعت کے لیے تاریخ ابھی تک نہیں دی گئی ہے۔