جولین اسانج کے وارنٹ گرفتاری برقرار

،تصویر کا ذریعہAFP
سویڈن کی ایک عدالت نے جنسی زیادتی کی کیس میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے وارنٹ گرفتاری کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے وارنٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعرات کو سٹاک ہوم کی اعلیٰ عدالت نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’اسانج کی گرفتاری کا وارنٹ صرف اس وجہ سے منسوخ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سفارت خانے میں ہیں جہاں فی الوقت وارنٹ گرفتاری کا اطلاق نہیں ہوتا۔‘
اسانج اس وقت لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں، اور وہ سویڈن میں جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں مطلوب ہیں۔ سویڈن کی عدالت جنسی زیادتی کے معاملے میں جولین اسانج سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔
سویڈن میں انھیں دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام کا سامنا ہے۔ اسانج اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے دونوں خواتین کی مرضی سے ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا تھا۔
سنہ 2012 میں برطانوی سپریم کورٹ کی جانب سے اسانج کی سویڈن حوالگی کے کیس کو دوبارہ نہ کھولنے کے فیصلے کے بعد ایکواڈور کے سفارت خانے نے جولین اسانج کو سیاسی پناہ دے دی تھی۔
اسانج پر اب تک جنسی زیادتی کے مقدمے میں باقاعدہ فرد جرم تو عائد نہیں کی گئی، لیکن وہ ان الزامات کی تفتیش کے سلسلے میں سویڈن کو مطلوب ہیں۔
اسانج کو خدشہ ہے کہ اگر انھیں سویڈن بھیجا گیا تو وہاں سے انھیں امریکہ لے جا کر ان پر امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر لانے کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات وکی لیکس کو فراہم کرنے والے امریکی اہلکار بریڈلی میننگ کو اس جرم میں 35 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







