عراق میں شیعہ ملیشیا کا بڑھتا زور

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, رانج الہ دین
- عہدہ, وزٹنگ پروفیسر، کولمبیا یونیورسٹی
جب دولتِ اسلامیہ نے ملک کے دیگر شمال مغربی علاقوں کے بعد جون میں عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا تو عراقی شیعہ تنظیموں کو جہادیوں کے خلاف جوابی حملوں کے لیے متحرک کیا گیا۔
دولتِ اسلامیہ کی مسلسل پیش قدمی کی وجہ سے عراقی مسلح افواج کے تتر بتر ہونے کے بعد شیعہ ملیشیا نے حکومت کے سکیورٹی آپریشنوں میں اہم کردار ادا کیا جس میں سب سے قابلِ ذکر تکریت میں کارروائی ہے۔
تاہم مبینہ طور پر ان کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ان پر کڑی تنقید بھی کی گئی ہے۔ ان کے کمانڈر اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔
عراقی شیعہ ملیشیا شیعہ کمیونٹی کو وسیع پیمانے پر متحرک کرنے کا ہی ایک حصہ ہے جو روایتی طور پر ملک میں طاقت میں شراکت کے لیے کوششیں کرتی رہی ہے۔
شیعہ برادری اس وقت متحرک اور سرگرم ہوئی جب 1968 میں بعث پارٹی انقلاب کے بعد برسرِ اقتدار آئی اور شیعہ برادری کو بڑے پیمانے پر دبایا جانے لگا، اگرچہ کچھ شیعہ رہنماؤں نے اس کے ساتھ تعاون بھی کیا تھا۔
ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی دعویٰ پارٹی (جس سے موجودہ وزیرِ اعظم بھی تعلق رکھتے ہیں)نے بعث کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، لیکن اس میں اسے ناکامی ہوئی۔
اس کے بعد 1980-1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران کئی شیعہ گروہوں نے صدام حسین کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔
1991 میں پہلی خلیجی جنگ کے بعد ایک اور بغاوت ہوئی۔ عراق شیعہ افراد نے جنوب میں شیعہ اکثریت کے صوبوں میں بظاہر امریکی صدر جارج بش کے ایما پر ایک اور بغاوت شروع کی جس کا مقصد عراق کی پہلے سے کمزور فوج کے خلاف مزید کامیابی حاصل کرنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن امریکی حمایت نہ مل سکی اور صدام حکومت نے دسیوں ہزار شیعہ افراد کو ہلاک کر دیا۔ شیعہ خانقاہیں اور دینی مدرسے تباہ کر دیے گئے۔
صدام حکومت کے خاتمے کے بعد بعث حکومت کے خلاف لڑنے والے شیعہ جنگجوؤں کو نئی عراقی فوج اور پولیس میں شامل کر لیا گیا۔ لیکن کچھ ملیشیا گروہوں کے رکن ہی رہے اور سنی جنگجوؤں کے خلاف فرقہ وارانہ جنگ لڑتے رہے جو 2006 میں اپنے عروج کو پہنچ گئی۔
وہ شیعہ ملیشیا جو ریاست کے کنٹرول میں نہیں تھی بڑھتی گئی اور طاقت ور ہوتی گئی۔
وہ ملک میں زیادہ تر لاقانونیت، اور امریکی اور برطانوی افواج اور عراق میں کام کرنے والے مغربی شہریوں پر حملوں کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔

شیعہ ملیشیا میں اپنے بھی کئی اختلافات ہیں اور گذشتہ دہائی میں وہ ایک دوسرے سے لڑتے رہے ہیں۔ لیکن جب دولتِ اسلامیہ نے شمالی اور مغربی عراق میں کنٹرول حاصل کیا تو وہ مل کر اپنے ملک اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے لڑنے لگے۔
اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ شیعہ گروہوں کے درمیان مستقبل میں کبھی لڑائی نہیں ہو گی۔
عراق کی فعال فوج کی غیر موجودگی میں دولتِ اسلامیہ مخالف فورسز کو مضبوط کرنے کے لیے عراق کے سینیئر شیعہ رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی نے فتویٰ میں سبھی عراقیوں سے کہا تھا کہ وہ ہتھیار اٹھا لیں۔
دیکھتے دیکھتے شیعہ رضا کاروں اور قبائلی سنی جنگجوؤں نے مل کر ایک فوج بنا لی۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ ملیشیا میں 120,000 جنگجو شامل ہیں۔
ایران 1979 سے عراقی شیعہ گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ عراق میں سب سے زیادہ طاقتور گروہ بدر بریگیڈ ہے جو 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران ایران میں بنا تھا۔
ایران کا عراق کی شیعہ ملیشیا پر کافی اثر و رسوخ ہے۔ جب دولتِ اسلامیہ نے موصل کا کنٹرول سنبھالا تو ایران ہی وہ واحد بیرونی طاقت تھی جس نے اپنی خصوصی فورسز اور مشیر عراق میں تعینات کیے تاکہ دولتِ اسلامیہ مخالف حملوں کو منظم کر سکیں۔
تاہم اس کا سبھی ملیشیا پر ایک جیسا اثر و رسوخ نہیں ہے۔
بدر بریگیڈ اگرچہ ایران کے بہت قریب ہے لیکن وہ اس کی حمایت کے بغیر بھی کام کر سکتی ہے۔ کئی ملیشیا گروہ ایران کی بجائے مقامی عراقیوں کو رپورٹ کرتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس کمزور بکھرے ہوئے گروہ جو 2003 کے بعد سامنے آئے وہ ایران پر انحصار کرتے ہیں اور کئی ایک کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ وہ ایران سے براہِ راست احکامات لیتے ہیں۔
مستقبل قریب میں تو یہی نظر آ رہا ہے کہ عراق اپنی سکیورٹی اور دولتِ اسلامیہ کے خلاف مزاحمت کے لیے ملیشیاؤں پر انحصار کرتا رہے گا۔
شیعہ ملیشیا کی شیعہ برادری اور عراقی ریاست کے ساتھ صف بندی کی وجہ سے اگرچہ شیعہ ملیشیا کو ختم تو نہیں کیا جا سکتا لیکن اسے منضبط ضرور کیا جا سکتا ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب دولتِ اسلامیہ کا خطرہ کم ہو جائے اور عراق کی فوج فعال ہو جائے۔







