دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں آثارِ قدیمہ کی تباہی

نمرود

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعراق کے شہر نمرود میں تاریخی آثار قدیمہ کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے تباہ کر دیا

عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول والے علاقوں میں قدیم مقامات سے نوادرات کی لوٹ مار اور تباہی جاری ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس جنگجو گروہ کو فنڈ کرنے کے لیے سمگلر ان اشیا کی سمگلنگ میں بھی مصروف ہیں۔

نیو یارک میں حکام نے اس ہفتے پونے گیارہ کروڑ ڈالر کی مالیت کے نوادارت پکڑے ہیں جن کے متعلق خیال ہے کہ وہ انڈیا اور جنوبی ایشیا کے دوسرے حصوں سے لوٹے گئے تھے۔

شہر کے نواح میں کئی گوداموں پر چھاپوں سے 2,622 نودارت ملے جو امریکہ کی تاریخ میں زمانۂ قدیم کے نوادرات کی سب سے بڑی ضبطی ہے اور یہ ایک امریکی آرٹ ڈیلر کے مقدمے کی تحقیقات کا حصہ ہے جس پر انڈیا میں مقدمہ چلنا ہے۔

یہ مقدمہ اس بات کا مظہر ہے کہ کس طرح بڑے پیمانے پر لوٹ مار دنیا میں ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق چوری شدی نوادرات کی فروخت کو روکنے کے لیے قوانین ناکافی ہیں۔

انٹیکوٹیز کولیشن کی ٹیس ڈیوس کہتی ہیں کہ ’آرٹ کی مارکیٹ بڑی تحمل مزاج ہے۔

’ہمیں معلوم ہے کہ ڈیلر اور نادر اشیا جمع کرنے والے کئی افراد برسوں بلکہ دہائیوں اس وقت تک انتظار کر سکتے ہیں جب تک عوام کی توجہ ان پر سے ہٹ نہ جائے اور اس کے بعد وہ چیزیں لاتے ہیں اور مارکیٹ میں متعارف کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کمبوڈیا کی آٹھ سالہ خانہ جنگی کے دوران لوٹ مار کے طریقوں کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں جاری لوٹ مار سے بھی اس کی مماثلت ہے۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ جب جنگ بند ہو گی تو سمگلنگ میں اور بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

’کمبوڈیا سے جو بڑے سبق ہم حاصل کر سکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ ہمیں لڑائی کے بعد کی حالت کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ جنگ کے دوران جتنا بھی بڑی تباہی ہو، اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ جب جنگ بند ہو جائے تو لوٹ مار بند ہو جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سمگلنگ کے جو نیٹ ورک زمانۂ جنگ میں قائم ہوتے ہیں وہ زمانۂ امن میں پنپتے بھی ہیں۔‘

مشرقِ وسطیٰ میں غیر قانونی تجارت دولتِ اسلامیہ کے لیے فنڈنگ کا اہم ذریعہ ہے اور اسے روکنے کے لیے سخت عالمی ردِ عمل کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اس سال کے آغاز میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد پاس کی تھی جس میں دوسرے ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ شام اور عراق سے غیر قانونی طور پر ہٹائے گئے ثقافتی مواد کی تجارت پر پابندی لگائیں۔

لیکن لوٹ مار کو روکنے کے لیے واحد طریقہ یہ ہے کہ چوری شدہ قدیم اشیا کی مارکیٹ کو بدنام بنا دیا جائے۔ اسی طرح ہی جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو کامیابی ملی تھی۔

سیٹیلائیٹ تصاویر سے نظر آ رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے حضرف یونس کے مقبرے کو بھی تباہ کر دیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنسیٹیلائیٹ تصاویر سے نظر آ رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے حضرف یونس کے مقبرے کو بھی تباہ کر دیا ہے

ڈیوس کے مطابق جب تک کوئی نادر اشیا کے لیے پیسے دینے کے لیے تیار ہے اور اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کی اس ملک اور وہاں کے لوگوں کو کیا قیمت چکانا پڑے گی اور اس کو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس پیسے سے منظم جرائم یا شاید دہشت گرد تنظیموں کو فائدہ پہنچتا ہے، اس وقت تک یہ تجارت ہوتی رہے گی۔

سیٹیلائیٹ سے کھینچی جانے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ شام میں تاریخی مقامات کو روز بروز لوٹا جا رہا ہے۔

حمہ شہر کے نزدیک اپامیا کے تاریخی کھنڈرات میں لوٹ مار کرنے والوں نے ایک سال میں تقریباً 15 ہزار جگہوں پر کھدائی کی ہے۔

یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے ثقافتی مرکز کی ماہرِ آثارِ قدیمہ کیتھرین ہینسن کہتی ہیں کہ ’اپامیا بہت مشہور ہے، یہ ایک عالمی ورثے کی سائٹ ہے اور مجھے توقع تھی کہ یہ لوٹ مار کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنے گی۔‘

’لیکن ان جگہوں پر جو لوٹ مار ہو رہی ہے اس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، جن کا کوئی نام بھی نہیں ہے۔‘

لیکن یہ بتانا ناممکن ہے کہ کہ کتنا کچھ لوٹا گیا ہے کیونکہ زمین سے نکالی گئی اشیا کہیں درج نہیں کی گئیں۔ اس میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی کہ کوئی یہ پتہ چلائے کہ وہ کہیں موجود بھی تھیں کہ نہیں۔

ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کئی معاہدے اور قوانین ہیں، جن میں 1954 کا ہیگ کنوینشن بھی ہے جس کی امریکہ نے 2009 میں توثیق کی تھی۔

1970 میں ہونے والا یونیسکو کنونشن لوٹ مار کے خلاف پہلا بین الاقوامی معاہدہ تھا اور 2003 میں اس میں عراق کے لیے بھی خصوصی شق ڈالی گئی۔

لیکن بحران کے وقت اس طرح کے معاہدے لاگو کرنا بہت مشکل کام ہے جبکہ ہیگ کنوینشن صرف ان نوادرات پر لاگو آتا ہے جو میوزیم یا اس طرح کے اداروں کا حصہ ہیں۔

مارچ میں دولتِ اسلامیہ نے عراق کے 13ویں صدی عیسوی کے سب سے اہم آثارِ قدیمہ نمرود کو تباہ کرنا شروع کر دیا تھا۔

یونیسکو نے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے اور اس ہفتے اس نے دوبارہ اس کی مذمت کی ہے۔

گذشتہ برس عراق کے شہر موصل میں حضرت یونس کے مقبرے کو بھی تباہ کیا گیا تھا۔ دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جگہیں بت پرستی کے زمرے میں آتی ہیں اور اس لیے انھیں تباہ کیا جاتا ہے۔

لیکن نمرود اور موصل میں جو کوئی نوادرات بھی بیچے جا سکتے تھے انھیں پہلے وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔