مصر: اخوان المسلمین کے سربراہ کو سزائے موت

محمد بدیع سنہ 2010 سے اخوان المسلمین کی قیادت کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمحمد بدیع سنہ 2010 سے اخوان المسلمین کی قیادت کر رہے ہیں

مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع سمیت دیگر 13 رہنماؤں کو ریاست کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے جرم میں سزائے موت کی تصدیق کی ہے۔

عدالت نے ایک مصری نژاد امریکی شہری سمیت 36 افراد کو عمر قید کی بھی سزا سنائی ہے۔

محمد بدیع کو مارچ میں سزا سنائی گئی تھی اور وہ کئی مقدمات میں بھی الجھے ہوئے ہیں۔ ان سزاؤں کے خلاف اپیل کی جائے گی۔

سنہ 2013 میں صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد اخوان المسلین کے خلاف کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

تاہم، ابھی تک صرف ایک سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

سنہ 2013 میں ہونے والے منتشر مظاہروں میں اخوان المسلین کے رہنماؤں کی جانب سے اپنی تنظیم کے کارکنان کو اشتعال انگیزی کی طرف راغب کرنے کے مقدمات درج درج کیے گئے تھے۔ حالیہ سزائیں انھی مقدمات کے سلسلے میں دی گئی ہیں۔

انھیں مصر کے اسلامی قانون کے اعلیٰ ترین اہلکار، مفتی اعظم کے مشورے کے بعد پکڑا گیا تھا۔

ان میں سے دو ملزمان کو ان کی عدم موجوگی میں موت کی سزا سنائی گئی۔

مصری نژاد امریکی شہری محمد سلطان کو اخوان المسلین کی حمایت اور غلط خبریں پھیلانے پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔

اخوان المسلین کے مبلغ کے بیٹے صلاح سلطان کئی ماہ نے بھوک ہڑتال کرتے رہے تھے اور انھیں مقامی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ بھی حاصل ہوئی تھی۔

اگست 2013 میں قاہرہ میں رابعہ العدوی کے احتجاجی کیمپوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران 600 سے زیادہ مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے اور بین الاقوامی سطح پر اس واقعےکی مذمت کی گئی تھی۔

مزید بہت سارے افراد ملک کے دیگر حصوں میں ہونے مظاہروں میں ہلاک ہوئے تھے۔