برطانوی ڈِگریاں چین سے، تفتیش شروع

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک حکومتی ادارہ ایک چینی ویب سائٹ کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے جو بہت سی برطانوی یونیورسٹیوں کی جعلی ڈگریاں بیچ رہی ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے مقامی ریڈیو نے رپورٹ کیا تھا کہ یہ سائٹ 500 پاؤنڈ میں جعلی ڈگریاں بیچ رہی ہے۔
گاہکوں کا روپ بدل کر جب کینٹ ریڈیو سے وابستہ صافیوں نے سائٹ سے جعلی ڈگری خریدنے کی کوشش کی تو ان کو پتہ چلا کہ یہ سائٹ یونیورسٹی آف کینٹ اور سرے کے علاوہ اور بہت سے برطانوی تعلمی اداروں کی جعلی اسناد بیچنے میں ملوث ہے۔
برطانیہ میں تعلیمی اسناد کی تصدیق کرنے وال ادارے ہائیر ایجوکیشن ڈگری ڈیچٹ (ایچ ای ڈی ڈی) کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ چینی حکام اس ویب سائٹ کو بند کر دیں گے۔
دوسر جانب جعلی ڈگریاں بیچنے والی سائٹ کا موقف ہے کہ جعلی اسناد محض نمائش کے لیے یا ان لوگوں کو بیچی جاتی ہیں جن کی اصل ڈگری گم ہوگئی ہو۔
لیکن یونیورسٹی آف کینٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے طالب علم بہت محنت کر کے ڈگری حاصل کرتے ہیں اس طرح ڈگری بیچنا غلط اور پریشان کن ہے۔
ایچ ای ڈی ڈی کی ترجمان جین رولی کا کہنا ہے کہ ’چینی ویب سائٹ برطانوی اور امریکی یونیورسٹیوں کی جعلی ڈگریاں بیچ رہی ہے اور ایسا کر کے وہ بہت سے ممالک میں قانون شکنی کی مرتکب ہو رہی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے چین کی وزارتِ تعلیم سے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اس سائٹ کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جین رولی کے مطابق اس طرح کی جعلی اسناد سے اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
’ آج کل ڈگری حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کو ہزاروں پاؤنڈ کا قرضہ لینا پڑتا ہے۔ ہم ان کے روزگار کے مواقع کو جعلی اسناد کے حامل افراد سے محفوظ بنانا چاہتے ہیں جنھوں نے بغیر محنت کے اور ہزاروں پاؤنڈ خرچ کیے بغیر یہ ڈگریاں حاصل کی ہیں۔‘







