’تعلیمی اسناد کی تصدیق، پانچ اپریل تک مہلت‘

سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت آٹھ اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے
،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت آٹھ اپریل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 189 ارکان کو پانچ اپریل تک اپنی اسناد کی تصدیق کروانے کی آخری مہلت دی ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اس عرصے کے دوران اپنی اسناد کی تصدیق نہ کروانے والے امیدوار عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل تصور ہوں گے۔

دریں اثنا صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر مظفر گڑھ کی مقامی عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی پر جعلی ڈگری سے متعلق مقدمے میں فرد جُرم عائد کر دی ہے۔

پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ارکان پارلیمنٹ کی جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر جاوید لغاری نے عدالت کو بتایا کہ اب تک قومی اور صوبائی اسمبلی کے 189 سابق ارکان نے اپنی میٹرک اور ایف اے کی اسناد کی تصدیق نہیں کروائی جبکہ ان اسناد کی تصدیق کا عمل 2010 سے جاری ہے۔

اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق نہ کروانے والوں میں قومی اسمبلی کے سابق قائد حزبِ اختلاف چوہدری نثار علی خان بھی شامل ہیں۔

اس موقع پر چوہدری نثار کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل نے اپنی اسناد کی تصدیق کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھجوائی تھیں لیکن ابھی تک وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔

چیف جسٹس نے سابق قائد حزب اختلاف کے وکیل سے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ عدالت میں نہیں ہوگا بلکہ متعقلہ ادارے ہی اس کے بارے میں فیصلہ دیں گے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ گُذشتہ انتخابات کے دوران غلط بیانی کرنے والے ارکان اس انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق نہ کروانے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے الیکشن کمیشن کو 13 فروری کے لکھے گئے خط پر عمل درآمد ہوگا جس میں کہا گیا تھا کہ 15 روز کے اندر اندر اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق نہ کروانے والے ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی تصور ہوں گی۔

عدالت نے متعلقہ شہروں کے پولیس افسران کو جعلی ڈگریوں سے متعلق زیر تفتیش مقدمات کو فوری نمٹانے کے بعد رپورٹ الیکشن کمیشن کو دیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے تمام ضلعی عدالتوں کو جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمات کو چار اپریل تک نمٹانے کا حکم دیا ہے۔

مظفر گڑھ کی مقامی عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی پر جعلی ڈگری سے متعلق مقدمے میں فرد جُرم عائد کر دی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان سے کہا کہ وہ اُن 28 ارکان کے مقدمات از نو جائزہ لیں جنہیں الیکشن کمیشن نے نمٹا دیا تھا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق اس وقت 34 مقدمات مختلف ضلعی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔اس مقدمے کی سماعت آٹھ اپریل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔