ایران جوہری معاہدہ محفوظ دنیا کی جانب ایک قدم ہے: پوپ

انھوں نے اپنے بیان میں مختلف ممالک میں عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی ایذا رسانیوں کا ذکر بھی کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنانھوں نے اپنے بیان میں مختلف ممالک میں عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی ایذا رسانیوں کا ذکر بھی کیا

رومن کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے ایسٹر کے روایتی پیغام میں شام اور عراق میں ’سب سے بڑھ کر‘ قیامِ امن کا پیغام دیا ہے۔

انھوں نے بین الاقوامی کمیونٹی سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ دونوں ممالک میں ’انسانی المیے‘ کی جانب توجہ دیں۔

انھوں نے سرزمین مقدس، یوکرین، لیبیا، یمن، نائجیریا، سوڈان اور ڈیموکریٹک ربپلک آف کانگو میں امن کے قیام پر زور دیا۔

انھوں نے اپنے بیان میں مختلف ممالک میں عیسائیوں کے ساتھ ہونے والی ایذا رسانیوں کا ذکر بھی کیا۔

ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز سکوئر میں بارش کے دوران خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس کا کہا ’ہم یسوع سے کہتے ہیں کہ وہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی مشکلات آسان کر دے جنھیں ان کے نام پر تکلیف پہنچائی جاتی ہے، اور تمام لوگوں کی بھی جو تنازعات اور تشدد کے باعث ناانصافیوں کا سامنا کر رہے ہیں‘

’ہم امن چاہتے ہیں، سب سے بڑھ کر، شام اور عراق میں، جہاں مختلف گروہوں کے درمیان پرامن تعلقات پھر سے قائم ہو جائیں جو ان محبت کرنے والے ممالک کا حصہ ہیں۔‘

ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز سکوئر میں پوپ فرانسس نے ایسٹر کا روایتی خطاب کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز سکوئر میں پوپ فرانسس نے ایسٹر کا روایتی خطاب کیا

ان کا کہنا تھا کہ ان کی دعائیں گذشتہ ہفتے کینیا میں گریسا یونیورسٹی کیمپس میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کے ساتھ ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسان میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے امید ظاہر کہ کہ ’محفوظ دنیا کی جانب ایک کلیدی قدم ہے۔‘

پوپ فرانسس نے اپنے بیان کا اختتام ان جملوں سے کیا کہ ’ہم جرائم پیشہ افراد اور گروہوں کی جانب سے مرد و خواتین کو قدیم اور جدید قسم کی غلامی سے آزادی اور امن چاہتے ہیں۔‘

’ہم منشیات فروشوں کا نشانہ بننے والوں کے لیے امن اور آزادی چاہتے ہیں، وہ منشیات فروش جو عام طور پر بڑی طاقتوں سے منسلک ہوتے ہیں۔‘

اس سے قبل روم میں جمعے کو گڈ فرائڈے کی دعائیہ تقریب کے دوران پوپ نے عیسائیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ’مجرمانہ خاموشی‘ قرار دیا تھا۔

یہ دعائیہ تقریب کینیا کی یونیورسٹی میں شدت پسندوں کے حملے کے ایک روز بعد منعقد ہوئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ 150 عیسائیوں کو چن کر نشانہ بنایا گیا تھا۔