مذہبی اور نسلی اقلیتوں سے ظالمانہ سلوک کی مذمت

پوپ فرانسس کا سالانہ پیغام سننے کے لیے لاکھوں افراد سینٹ پیٹرز سکوائر پر جمع ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپوپ فرانسس کا سالانہ پیغام سننے کے لیے لاکھوں افراد سینٹ پیٹرز سکوائر پر جمع ہوئے

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے کرسمس کے موقع پر اپنے روایتی پیغام میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظالمانہ سلوک کی مذمت کی ہے۔

پوپ فرانسس نے اپنے دوسرے ’شہر اور دنیا کے لیے‘ کرسمس پیغام میں عراق اور شام میں جاری بحران سے متاثرہ افراد کی حالتِ زار پر بھی روشنی ڈالی۔

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا کا کہنا تھا کہ نائجیریا میں متعدد افراد کو قتل یا یرغمال بنایا گیا۔

انھوں نے اسرائیل اور فلسطینوں سے مذاکرات کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان میں طالبان کے حملوں کی مذمت کی۔

پوپ فرانسس کا سالانہ پیغام سننے کے لیے لاکھوں افراد سینٹ پیٹرز سکوائر پر جمع ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ عراق اور شام میں موجود عیسائیوں کو لمبے عرصے سے جاری تصادم کو برداشت کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ دیگر نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے گروہوں نے بھی بدترین اذیتیں برداشت کیں۔

پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ کرسمس کا تہوار اس علاقے اور پوری دنیا کے بےگھر، مہاجرین، بچوں، بڑوں کے لیے نئی امید لےکر آیا ہے۔

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا جیسے ہی کرسمس کا پیغام دینے کے لیے آگے بڑھے تو اس موقع پر موجود لاکھوں افراد نے خوشی کا اظہار کیا۔

پوپ فرانسس نے دنیا میں جاری تنازعات اور خاص طور پر مشرقِ وسطی اورافریقہ میں امن قائم کرنے کی استدعا کی۔

واضح رہے کہ عیسائیوں کے مذہبی پیشوا کی جانب سے امن کی اپیل نئی بات نہیں ہے اور وہ سارا سال باقاعدگی سے ایسی اپیلیں کرتے ہیں۔

پوپ فرانسس نے کرسمس کے موقع پر یوکرین، نائجیریا، لیبیا، جنوبی سوڈان اور افریقہ کے دیگر حصوں میں بھی امن قائم کرنے کی اپیل کی۔

انھوں نے پاکستان کے صوبے خیبر پختنخواہ کے دارالحکومت پشاور میں گذشتہ ہفتے آرمی پبلک سکول میں طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 132 بچوں کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا نے افریقہ میں ایبولا وائرس سے ہلاک ہونے والے لاکھوں افراد کے لیے بھی دعا کی۔