پوپ فرانسس ترکی کے تاریخی دورے پر

،تصویر کا ذریعہAP
رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس ترکی کے تاریخی دورے پر جمعے کو انقرہ پہنچنے والے ہیں اور ان کے اس دورے کا مقصد ملک میں بین المذاہب ڈائیلاگ کی تشہیر ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوگان ترکی میں پوپ کا استقبال کریں گے اور وہ دورے کے دوران استنبول میں آرتھوڈوکس کرسچیئن چرچ کے سربراہ سے بھی ملیں گے۔
یہ تاریخ میں چوتھا موقع ہے کہ عیسائیوں کے مذہبی پیشوا مسلم اکثریتی ملک ترکی آ رہے ہیں۔
اس تین روزہ دورے کے دوران پوپ شامی پناہ گزینوں کے معاملے سمیت خطے میں موجود بحرانوں پر بھی بات کر سکتے ہیں۔
ترکی میں اس وقت شام سے آنے والے 16 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں اور ان میں سے بیشتر ترک شام سرحد کے قریبی علاقوں میں رہ رہے ہیں۔
ویٹیکن کے حکام کا کہنا ہے کہ مذہبی برداشت کا معاملہ پوپ کی صدر اردوگان اور ملک کی اہم ترین مذہبی شخصیت محمد گومیز سے ملاقات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔
دورے کے دوران پوپ استنبول میں واقع 17ویں صدی میں تعمیر کی گئی مسجد سلطان احمد بھی جائیں گے۔
اس کے علاوہ وہ تین کروڑ آرتھوڈوکس عیسائیوں کے رہنما پیٹرارک بارتھولومیو کے ساتھ ایک مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ اعلامیہ کیتھولک ازم اور آرتھوڈوکس عیسائیت کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی کوشش ہے۔
خیال رہے کہ اگرچہ اب ترکی میں آٹھ کروڑ مسلمان آباد ہیں جبکہ عیسائیوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار ہے لیکن ترکی ایک زمانے میں آرتھوڈوکس عیسائیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔
پوپ فرانسس نے سٹراس برگ میں یورپیئن پارلیمان سے خطاب میں خبردار کیا ہے کہ دنیا کو ’یورپ کسی قدر عمر رسیدہ اور بدحال‘ دکھائی دیتا ہے۔
پوپ نے کہا کہ یورپ ایک ایسی دنیا میں ہے جو اس پر اعتماد نہیں کرتی، اور وہ ’اپنا مرکزی کردار کم سے کم ہوتا‘ محسوس کرتا ہے۔
انھوں نے غریب اور مایوس مہاجرین کی کشتیوں میں یورپ آنے کے بارے میں ’مشترکہ ردِ عمل‘ ظاہر کرنے کا بھی کہا۔
لوگ اکثر اوقات پوپ فرانسس پر یورپ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
یورپی پارلیمان کے ساتھ ساتھ وہ یورپ میں انسانی حقوق کی مرکزی ادارے کونسل آف یورپ سے بھی خطاب کر رہے ہیں۔ تاہم سٹراس برگ کے بہت سے کیتھولک عیسائی اس پر ناراض ہیں کہ پوپ ان سے نہیں ملیں گے اور نہ ہی شہر کے کلیسا کا دورہ کریں گے۔
پوپ فرانسس کا یہ چار گھنٹے کا دورہ کسی بھی پوپ کا مختصر ترین دورہ ہے۔ یہ ان کا پوپ منتخب ہونے کے بعد یورپ کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے پہلے وہ ستمبر میں البانیہ گئے تھے۔
پوپ جولائی سنہ 2013 میں لامپیڈیوزا میں مہاجرین سے ملے اور ان کے لیے دعا کی۔
منگل کو بات کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین کے ڈوب کر ہلاک ہونے کے واقعات کے بعد ان سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے کا کہا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم بحیرۂ روم کو ایک بڑا قبرستان بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
’یورپی یونین کے اندر عدم تعاون کی وجہ سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن میں مہاجرین کے انسانی وقار کا خیال نہیں رکھا جاتا اور ان سے غلامی میں مزدوری اور سماجی تناؤ جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے کارکنوں کے لیے روزگار کے مواقع اور اچھا ماحول پیدا کرنے پر زور دیا۔
پوپ نے یورپ کو تازہ دم کرنے کی بھی بات کی۔ انھوں نے یورپ کہا کہ یورپ ایک ایسی ’غیر فعال، دادی ماں ہے جو بچے پیدا نہیں کر سکتی۔‘ انھوں نے کہا کہ یورپ اپنی ’روح‘ کھو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یورپ کو متاثر کرنے والے عظیم خیالات میں اب وہ کشش نہیں رہی اور اس کی جگہ یورپ کے اداروں کی انتظامی جکڑبندیوں نے لے لی ہے۔‘







