’پائلٹ کاک پٹ سے باہر تھا کہ دروازہ بند ہو گیا‘

،تصویر کا ذریعہBEA
فرانس میں گر کر تباہ ہونے والے مسافر جہاز کے حادثے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق جہاز کے دو میں سے ایک پائلٹ کاک پٹ کے باہر بند ہو گئے تھے۔
تفتیش کاروں کے ذرائع کے مطابق کاک پٹ کے وائس ریکارڈر سے ملنے والی آوازوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پائلٹ کاک پٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’جرمن ونگز‘ کا مسافر طیارہ منگل کے روز بارسلونا سے جرمنی کے شہر ڈوسلڈورف جاتے ہوئے فرانس کے پہاڑی سلسلے فرنچ ایلپس پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس طیارے میں سوار 144 مسافر اور عملے کے چھ افراد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اس سے قبل فرانسیسی تفتیش کاروں کے مطابق فرانس کے پہاڑوں پر گر کر تباہ ہونے والے مسافر طیارے کے کاک پٹ وائس ریکارڈر سے کارآمد معلومات حاصل ہوئی ہیں، تاہم ابھی تک جہاز کے حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آئیں۔
تفتش کاروں کے مطابق جہاز اپنی مقررہ بلندی پر پرواز کرنے کے دوران بہت تیزی سے زمین پر آ کر گرا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جہاز میں کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جہاز صرف آٹھ منٹ میں بلندی سے گرتا ہوا زمین سے ٹکرایا۔
امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک تفتیش کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حادثے سے کچھ دیر قبل جہاز کا پائلٹ کاک پٹ سے باہر تھا اور وہ دوبارہ کاک پٹ میں داخل نہ ہو سکا۔
تفتیش کار نے وائس ریکاڈر سے ملنے والی معلومات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سن سکتے ہیں کوئی دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
تفتیشی ذرائع نے وائس ریکارڈر سے ملنے والی معلومات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ’ کوئی باہر سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا اور پھر کوئی جواب نہیں آیا اور پھر دروازہ زیادہ زور سے کھٹکھٹایا گیا اور آپ سن سکتے ہیں کہ وہ دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تفتیشی ذرائع نے اسی طرح کی معلومات خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بھی فراہم کی ہے۔
فرانس کے محکمۂ ہوا بازی کی تحقیقاتی ایجنسی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ کاک پٹ کے وائس ریکارڈر میں آوازیں ہیں لیکن اُن آوازوں کی بنیاد پر کسی بھی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ تفتیش کار پہلے کچھ دنوں میں ’ابتدائی تخمینہ‘ لگا سکتے ہیں لیکن مکمل صورت حال کا اندازہ لگانے اور تجزیہ کرنے میں کئی ہفتے اور مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔
فرانس کے محکمہ ہوا بازی کی تحقیقاتی ایجنسی کے ڈائریکٹر رومی جوٹی کے مطابق وائس ریکارڈر میں محفوظ رہنے والے آخری بات چیت میں پائلٹ ایئر ٹریفک کنٹرول سے معمول کے مطابق بات کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاز نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو بتایا کہ وہ اپنے روٹ پر سفر کر رہا ہے لیکن اُس کے ایک ہی منٹ بعد جہاز نے بلندی سے نیچے گرنا شروع کر دیا۔
مسٹر جوٹی کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرولر نے محسوس کیا کہ جہاز بلندی سے نیچے پرواز کر رہا ہے اور انھوں نے جہاز کے پائلٹ سے رابطہ کی کوشش کی، جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ ایسے اشارے نہیں ملے کہ جہاز میں دھماکہ ہوا ہے۔
مسٹر جوٹی نے کہا کہ ’اس لمحے ہم اس پوزیشن پر نہیں ہیں کہ کسی ایسی چیز کی نشاندہی کر سکیں، جو جہاز کے گرنے کی وجہ بنا ہو یا ہم یہ بتا سکیں کہ ایئر ٹریفک کنٹرول کو جواب کیوں نہ ملا۔‘
خراب موسم کی وجہ سے ڈگنے اور بارسیلونیٹے کے دور دراز کے پہاڑی علاقے اور گھاٹی میں لاشوں کی تلاش کا عمل مکمل ہونے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
ایک فرانسیسی اہلکار کے مطابق طیارے کا ملبہ بکھرا ہوا ہے اور اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو کہ ٹکڑوں میں نہ ہو۔ ایئر بس 320 ایک چھوٹا طیارہ ہوتا ہے جسے کم اور درمیانی فاصلوں کی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP







