کیا دبئی میں تعیمراتی سرگرمیاں دیرپا ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, مارک لوبیل
- عہدہ, بی بی سی نیوز، مشرق وسطیٰ
متحدہ عرب امارت کے شہر دبئی میں حیرت انگیز رفتار سے تعمیرات ہوئی ہیں۔
جلد ہی میں 31ویں منزل پر اپنے بیڈ روم کی کھڑکی سے دنیا کا سب سے بڑا ’آبزرویشن ویل‘ دیکھ سکوں گا۔
ساحل سمندر کے کنارے میرا فلیٹ دس سال قبل موجود نہیں تھا۔ دبئی میں تعمیراتی منصوبوں کے اُبال کے دوران یہ بنایا گیا تھا یہ اُبال رفتہ رفتہ سنہ 2008 میں بیٹھ گیا اور اب یہ دوبارہ اٹھنا شروع ہوا ہے۔
بے بہا تعمیراتی منصوبوں نے اس صحرائی ریاست کو دنیا کے نقشے پر منفرد طور پر ظاہر کیا ہے۔
اب نئی تعمیرات کے منصوبے سامنے آئے ہیں۔ جن میں صحرا میں ایک برساتی جنگل، دنیا کے سب سے بڑے شاپنگ مال اور زمین پر سب سے بلند جڑواں ٹاوروں کی تعمیر شامل ہیں۔
ایک عربی کہاوت ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا۔
یقیناً یہی دبئی کے تعمیراتی شعبے کے لیے امید ہے اور اب یہ کثیر غیرملکی سرمائے اور قرضوں کے باعث اپنے پیروں پر کھڑی ہو چکی ہے۔
یہ بظاہر زیادہ مستحکم دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد صارفین کی پرزور طلب اور بہتر طور پر نگرانی کی گئی جائیداد کی خرید و فروخت کی منڈی پر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ماحولیاتی تناظر میں چند خامیاں موجود ہیں۔ دبئی میں ایک عام شخص عالمی اوسط کے مقابلے میں دگنا پانی استعمال کرتا ہے، ایک دن میں تقریباً ڈھائی کلو کوڑا بناتا ہے اوراس کا شمار دنیا میں بدترین کاربن ڈائی آکسائڈ کی آلودگی پیدا کرنے والی ریاستوں میں ہوتا ہے۔
دبئی میں توانائی کا بڑا ذریعہ گیس ٹربائنز ہیں۔ توانائی حاصل کرنے کا یہ ایک خاصا شفاف ذریعہ ہے، کیونکہ عالمی سطح پر گرڈز سے خارج ہونے والی کاربن کی شرح صرف 60 فی صد ہے۔
اس کو بھی بہتر بنانے کے منصوبے ہیں۔

دبئی کے حکام سنہ 2030 تک 15 فیصد بجلی کو قابل جدید طریقوں سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور فی کس 30 فیصد تک استعمال کم ہو گا۔
جدید اہداف قابل عمل دکھائی دیتے ہیں۔
فی الوقت جب موسم گرما کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، خوش قسمتی سے اب بھی باہر اتنی ٹھنڈ ہے کہ آپ وہاں بیٹھ سکتے ہیں۔ سورج اس میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور حالیہ شمسی ٹیکنالوجی اور اس کی قیمتوں کا تعلق اس سے ہے۔
گذشتہ ہفتے ایک سکیم متعارف کرائی گئی جس سے لوگوں کو بجلی کا خرچ بچانے میں مدد ملی۔ متحدہ عرب امارات کی بڑے پیمانے پر شمسی توانائی حاصل کرنے کی کوشش جلد رنگ لا سکتی ہے۔
سعودی عرب کا ایک پاور پلانٹ ڈویلپر اور آپریٹر، ایکوا پاور دبئی کو سستے ترین نرخوں پر 200 میگا واٹ شمسی توانائی 25 سال کے لیے فراہم کر سکتا ہے۔
اکوا کے چیف ایگزیکٹیو پڈی پدماناتھن کا کہنا ہے کہ کثیرسرمائے کی بچت بجلی کی سرکاری کمپنی ڈیوا (ڈی ای ڈبلیو اے) کی ساکھ کو بروئے کار لاتے ہوئے ممکن ہوئی ہے۔
امارات گرین بلڈنگ کونسل کے چیئرمین سعید الابر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گذشتہ چند برسوں میں ماحولیاتی استحکام کے حوالے سے آگہی مہم میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہdamac
تاہم اعدا دو شمار بتاتے ہیں کہ ابھی ایک طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔
ایک اور اقدام حکومت نے کیا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی عمارتوں کی تعمیر گذشتہ برس متعارف کروائے گئے اصول کے مطابق ماحول دوست ہوں گی۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست اقدامات رویوں میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
ایسی بے شمار کہانیاں ہیں، جیسا کہ حال ہی میں ایک باز کی اڑان اور مشرق وسطیٰ میں پہلی ماحول دوست مسجد کا افتتاح۔
تعمیراتی کمپنیوں کے مطابق دبئی میں برساتی جنگل کی تعمیر سے ایک چھت تلے بنائے جانے والے ایکوسسٹم میں جنگل کے انداز زندگی کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
تاہم شارجہ سعید بینک اور ہربیریم کے ڈائریکٹر نے ایک مقامی اخبار دی نیشنل کو بتایا کہ صحرائی حالات میں مصنوعی برساتی جنگل کی تعمیر ایک مشکل کام ہے اور اس منصوبے کے آغاز سے قبل اس کے ماحول پر اثرات کو جانچنا اہم ہے۔
اگر متحدہ عرب امارات واقعی ماحول سے متعلق اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے تو یہ دبئی میں تعمیرات سے منسلک دیگر افراد کے لیے بھی ایک اچھا مشورہ ہے۔







