تیونس کا عجائب گھر حملوں کے بعد دوبارہ کھل رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP
تیونس کے دارالحکومت تیونس کا باردو عجائب گھر گذشتہ ہفتے کے ہلاکت خیز حملے کے بعد دوبارہ کھل رہا ہے جس میں کم از کم 22 افراد مارے گئے تھے۔ مرنے والوں کی اکثریت یورپی سیاحوں پر مشتمل تھی۔
عجائب کے دوبارہ کھلنے کے موقعے پر ایک کنسرٹ اور عوامی جلسہ بھی منعقد کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حملہ آور اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہے ہیں۔
خطرہ ہے کہ یہ حملہ، جس کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے، تیونس کی اہم سیاحتی صنعت کو متاثر کرے گا۔
پیر کے روز تیونس کے وزیرِ اعظم حبیب الصید نے چھ پولیس افسران کو برطرف کر دیا۔
حبیب الصید کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے میوزیم کے دورے کے دوران کئی خامیاں دیکھیں۔ اس عجائب گھر رومن دور کا پچی کاری کا کام اور دوسرے کئی نوادر محفوظ ہیں۔
حکام نے کہا ہے کہ گذشتہ بدھ کو ہونے والے اس حملے میں دو بندوق بردار مارے گئے تھے، جب کہ تیسرا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
2011 میں طویل مدت تک تیونس پر حکومت کرنے والے حکمران زین العابدین کی معزولی کے بعد سے یہ تیونس میں ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔
کہا جاتا ہے کہ صرف دو بندوق برداروں نے عجائب گھر پر حملے میں حصہ لیا تھا، اور انھوں نے لیبیا اس اس علاقے میں تربیت حاصل کی تھی جو دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارتِ داخلہ کی جانب سے ویڈیو فوٹیج جاری کی گئی ہے جس میں حملہ آوروں کے نام یٰسین العبیدی اور حاتم الخشناوی بتائے گئے ہیں۔ یہ دونوں عمارت کے اندر سکیورٹی فورسز سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔
ایک انٹرویو میں تیونس کے صدر السبسی نے کہا تھا کہ تیونس کے سکیورٹی سسٹم میں ’خامیوں‘ کا مطلب یہ ہے کہ پولیس اور سراغ رساں ادارے ’عجائب گھر کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ سکیورٹی سروسز نے حملے کے بعد ’پھرتی سے ردِعمل دکھایا‘ اور درجنوں زندگیاں بچانے میں کامیاب ہوئے۔
حملے میں کم از کم 20 غیرملکی سیاح شامل تھے، جن کا تعلق برطانیہ، جاپان، فرانس، اٹلی اور کولمبیا سے تھا۔







