تیونس میں پولیس کے چھ افسران نوکری سے فارغ

،تصویر کا ذریعہAFP
تیونس کے مشہور عجائب گھر پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ملک کے وزیراعظم حبیب الصید نے سکیورٹی سے متعلق متعدد کوتاہیوں کے نشاندہی کے بعد پولیس کے چھ افسران کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔
وزیراعظم حبیب الصید نے عجائب گھر کا دور کرنے کے بعد یہ اعلان کیا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ باردو عجائب گھر کے دورے کے موقع پر وزیراعظم نے عجائب گھر کی سکیورٹی میں متعدد کوتاہیوں کو محسوس کیا ہے۔
دارالحکومت تیونس میں پارلیمان کے قریب واقع عجائب گھر پر حملے ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاحوں سمیت 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو مسلح افراد ہلاک ہوئے اور ایک فرار ہو گیا تھا۔
ملک کے صدر الباجی قاید السبسی نے کہا تھا کہ حملے آوار تین تھے اور فرار ہونے والا مسلح شخص جلد پکڑا جائے گا۔
تیونس میں سنہ 2011 میں آنے والے انقلاب کے بعد عجائب گھر پرمسلح افراد کا حملہ شدت پسندوں کی جانب سے مہلک ترین کارروائی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراغظم ہاوس کے ترجمان نے کہا ہے کہ معطل ہونے والے افراد میں دارالحکومت تیونس کے پولیس چیف اور عجائب گھر کی سکیورٹی پر مامور پولیس کے سربراہ بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے متاثرین کو یاد رکھنے کے لیے ایک یادگار بنانے کا اعلان کیا۔
اطلاعات کے مطابق عجائب گھر پر حملہ کرنے والے مسلح افراد نے لیبا میں تربیت لی۔ سی سی ٹی وی کیمرے سے لی گئی ویڈیو میں دکھائی دینے والے ایک مسلح حملہ آور کی شناخت یٰسین لابیدی ہے جبکہ دوسرے کا نام حاتم کاچونوئی بتایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
یہ دونوں حملہ آور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔
اس سے قبل وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں تیونس میں سکیورٹی کے نظام میں ’کوتاہیوں‘ کا ذکر کیا تھا جس کا مطلب تھا کہ ’پولیس اور خفیہ ادارے‘ عجائب گھر کو محفوظ بنانے میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کر سکے۔
تاہم وزیراعظم نے یہ کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بھرپور انداز میں جوابی کارروائی کر کے درجنوں افراد کی زندگیوں کو محفوظ بنایا۔
حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے سیاحوں میں اٹلی، سپین، فرانس، آسٹریلیا، کولمبیا، جاپان اور پولینڈ کے شہری شامل ہیں۔
حملے کے بعد تیونس کے مرکزی علاقوں میں مقامی شہریوں نے باہر نکل کر احتجاج کیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد حملے کی زد میں آنے والے عجائب گھر کے باہر بھی جمع ہوئی۔ انھوں نے وہاں شمعیں بھی روشن کیں۔
حملے کے بعد تیونس کے بعد صدر الباجی قاید السبسی نے کہا تھا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔
ادھر عالمی برادری نے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں تیونس کو تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
تیونس میں ماضی میں بھی غیر ملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ہمسایہ ملک لیبیا میں بدامنی کی وجہ سے تیونس میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ خود تیونس سے بڑی تعداد میں لوگ عراق اور شام میں لڑنے کے لیے گئے ہیں اور ان کے بارے بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ یہ واپسی پر ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہو سکتے ہیں۔







