تیونس کے ساحلی شہر میں خودکش بم دھماکہ

تیونس میں گذشتہ کئی ماہ سے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف بّری اور فضائی آپریشن جاری ہے
،تصویر کا کیپشنتیونس میں گذشتہ کئی ماہ سے اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف بّری اور فضائی آپریشن جاری ہے

حکام کا کہنا ہے کہ تیونس کے سیاحتی شہرسوسہ میں ایک خود کش بم دھماکہ ہوا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ ساحل پر واقع ایک ہوٹل کے قریب ہوا ہے، جب کہ ہوٹل کے ایک اہل کار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح پونے دس بجے ہوا۔

سوسہ دارالحکومت تیونس سے 140 کلو میٹر جنوب میں بحیرۂ روم کے ساحل پر آباد شہر ہے جہاں بڑی تعداد میں سیاح جاتے ہیں۔

ہوٹل کے اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ اس میں سوائے خود کش حملہ آور کے کوئی دوسرا شخص زخمی نہیں ہوا۔

ریاض پام ہوٹل کے ایک ریسیپشنسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ ہوٹل کے قریب ہوا۔

عالمی خبر رساں ادارے اے پی نے تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹیپ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ خود کش بمبار مرد تھا اور اس نے دھماکہ خیز مواد سے لیس بیلٹ پہن رکھی تھی۔

دریں اثنا خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ ایک دوسرے واقعے میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جو خود کو سابق صدر حبیب بورقیبہ کے گھر کے سامنے دھماکے سے اڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہ واقعہ منتسیر میں پیش آيا جو سوسہ کے ساحل سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔

واضح رہے کہ بورقیبہ نے تیونس کی فرانس سے آزادی کے بعد قیادت کی تھی اور انھیں 1987 میں برطرف کر دیا گیا تھا۔ وہ 13 سال قبل فوت ہو گئے تھے۔