فرانس کا دائیں بازو کی جانب جھکاؤ

فرانس میں لوگ مقامی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفرانس میں لوگ مقامی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں

فرانس میں مقامی انتخابات کے پہلے مرحلے کے ضمنی نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ سینٹر رائٹ یو ایم پی پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دائیں بازو کی کٹر جماعت نیشنل فرنٹ 25 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئی ہے، جب کہ قدامت پسندوں نے 31 فیصد ووٹ لیے ہیں۔

صدر فرانسوا اولاند کی حکمران سوشلسٹ جماعت 20 فیصد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر آ سکی۔

ووٹر 101 کاؤنٹیوں میں نمائندے منتخب کر رہے ہیں، جن کے ذمے سکولوں کو فلاح و بہبود کے کاموں کی نگرانی ہے۔

ان نتائج کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے حلقوں میں 29 مارچ کو او ایم پی اور ایف ان کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہو گا۔

ماضی میں دوسرے مرحلے کے انتخابات میں مخالف جماعتیں مل کر دائیں بازو کی کٹر جماعتوں کو باہر رکھنے کے لیے آپس میں اتحاد کرتی رہی ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ برس یورپی یونین کے انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں بھی سوشلسٹوں کو شکست ہوئی تھی۔

یہ فرانس کے کٹر دائیں بازو کی ایک اور کامیابی ہے۔

تاہم رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کٹر دائیں باز کی جماعتیں اس سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی تھیں اور انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آ سکتی تھیں۔

ایسا نہیں ہو سکا، جو سابق صدر نیکولا سارکوزی کی قیادت والے مرکزی حزبِ اختلاف کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔

دائیں بازو کی رہنما لے پین نے امید ظاہر کی ہے کہ حالیہ انتخابی نتائج سے ان کے 2017 میں صدارتی انتخابات کے لیے مہم کو تقویت ملے گی۔

سوشلٹ وزیرِ اعظم منوئل والس نے اس خبر کو خوش آئند قرار دیا ہے کہ نیشنل فرنٹ نے بعض توقعات سے کم نشستیں حاصل کی ہیں، اور کہا کہ وہ فرانس کی سب سے موثر سیاسی قوت نہیں ہے۔

تاہم لے پین نے وزیرِ اعظم والس سے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں، اور کہا ہے کہ ان کی جماعت نے بھاری تعداد میں ووٹ لیے ہیں۔