فرانسیسی والدین پٹائی کے حق میں

،تصویر کا ذریعہ
کونسل آف یورپ کے اس فیصلے کے بعد کہ فرانس میں بچوں کی پٹائی کے قوانین واضح نہیں، اس ملک میں جہاں والدین کے پٹائی کے حق کو بڑا عزیز سمجھا جاتا ہے، ایک قومی بحث چھڑ چکی ہے۔
سنہ 1951 میں فرانس میں آپ جب بھی ریڈیو لگائیں، آپ ایسی گفتگو سن سکتے تھے جس میں والدین بچوں کی پٹائی کے فوائد گنواتے نہیں تھکتے تھے۔
’میں منہ پر تھپڑ لگانے کو پسند نہیں کرتا کیونکہ اگر آپ زور سے تھپڑ مار دیں تو بچے کے کان اور آنکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ’پشت‘ پر دو چار لگا دینا جسم میں دورانِ خون کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے۔‘
اُس وقت فرانس میں چند ہی لوگ ایسے ہوں گے جو سمجھتے ہوں گے کہ لوگوں کو یہ نصیحت بچوں پر تشدد پر آمادہ کرنے کے مترادف ہے۔
اس روایت کو تبدیل کرنے میں مزید تین دہائیاں لگ گئیں اور سویڈن وہ پہلا یورپی ملک تھا جس نے بچوں کی پٹائی کو غیر قانونی قرار دیا۔ اُس کے بعد سے 20 دیگر یورپی ممالک سویڈن کی پیروی کر چکے ہیں، لیکن فرانس اس پر ڈٹا رہا ہے کہ وہ اپنے ہاں والدین کے اس حق سے دستبردار نہیں ہو گا اور اس نے بچوں کی حقوق کی اس جدید لہر کے آگے بند باندھے رکھےگا۔
یورپی کونسل کے اس ہفتے کے فیصلے کے بعد سے نہ صرف فرانسیسی اخبارات اور رسائل میں ’پٹائی: ایک فرانسیسی شوق‘ کے عنوان کے تحت کئی مضامین شائع ہو چکے ہیں بلکہ کئی آن لائن فورمز پر بھی لوگ پٹائی کی دھواں دھار وکالت کر رہے ہیں۔
فرانس میں والدین کے سب سے زیادہ مقبول رسالے کی معروف کالم نگار کرسٹین ہرننڈیز کہتی ہیں کہ ’کونسل کے اس فیصلے پر ہونے والے ردِ عمل سے ہمیں واقعی بہت حیرت ہوئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’ہمارے کئی قارئین کا کہنا تھا کہ پٹائی بچوں کی تربیت کا حصہ ہوتی ہے۔ حیرت ہے کہ ابھی تک والدین یہ سمجھتے ہیں کہ پٹائی سے بچوں کے رویے کو درست کیا جا سکتا ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ ہر کچھ عرصے بعد بچوں کو یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ گھر میں والدین کی مرضی چلے گی۔ یہ فرانس کی پرانی روایت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیگر یورپی ممالک کی طرح فرانس میں بھی بچوں پر تشدد جرم بن چکا ہے، لیکن یہاں قانون والدین کو کسی قدر یہ حق دیتا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت اپنے انداز میں کر سکتے ہیں۔ ’کسی حد تک تربیت‘ اور ’مجرمانہ تشدد‘ میں کیا کیا شامل ہے، یہ معاملہ عدالت پر چھوڑ دیا گیا ہے جس پر آئے دن کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔
مثلاً 2013 میں ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ ایک والد نے اپنے بیٹے کی پٹائی میں مقررہ حد سے تجاوز کیا تھا کیونکہ اس نے بیٹے کی پٹائی سے پہلے اس کے کپڑے بھی اتروا دیے تھے۔ عدالت نے مذکورہ شخص کو 500 یورو جرمانے کی سزا سنا دی تھی، لیکن اس فیصلے نے فرانسیسی قوم کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔
بچپن کی تاریخ کی ماہر میری فرانس مورل کہتی ہیں کہ صدیوں پہلے کیتھولک تعلیمات اور ریاست دونوں فرانسیسی والدین پر زور دیتے تھے کہ اپنے بچوں کو اچھے شہری بنانا ان کی اولین ذمہ داری ہے: ’اس میں والدین کو حقوق بھی حاصل تھے اور ان کی ذمہ داریاں بھی تھیں، لیکن اس میں بچوں کے صرف فرائض ہوتے تھے۔‘
’یہاں تک کہ مشہور فرانسیسی بادشاہ لوئی کی پٹائی ایک سال کی عمر میں ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اسی لیے جب سنہ 1979 میں سویڈن میں بچوں کی پٹائی کو غیر قانونی قرار دیا گیا تو فرانس میں لوگوں کو اس پر ہنسی آئی۔‘
تاہم میری فرانس مورل کہتی ہیں کہ اب فرانس میں بھی رویوں میں بہت تبدیلی آ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’مانع حمل طریقوں کے عام ہونے کے بعد اب لوگوں نے کم بچے پیدا کرنا شروع کر دیے ہیں اور زیادہ تر بچوں کو والدین کا پیار ملتا ہے۔ اسی لیے اب بچوں کی تربیت کے بارے میں بھی رائے تبدیل ہو چکی ہے۔‘
اگرچہ فرانس اور برطانیہ میں بچوں کی پٹائی پر رائے عامہ کے نتائج ایک جیسے ہیں اور گذشتہ سال برطانیہ کے 69 فیصد کے مقابلے میں فرانس میں 67 فیصد لوگوں نے پٹائی کے خلاف رائے دی تھی، تاہم جب بھی پٹائی کی بات ہوتی ہے دونوں ملکوں میں اس بارے میں بہت مختلف باتیں سننے کو ملتی ہیں۔







