’سیکھنے کے لیے نیند بہت ضروری ہے‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے سال میں نیند کے کردار کے بارے میں معلومات ’انتہائی کم‘ ہیں

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنسائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے سال میں نیند کے کردار کے بارے میں معلومات ’انتہائی کم‘ ہیں

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کے سیکھنے اور یادداشت کی کلید لمبی نیند ہے۔

12 ماہ سے کم عمر بچوں پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ اگر بچے نئے کام کرنے کے بعد لمبی نیند نہ سوئیں تو وہ ان کاموں کو یاد نہیں رکھ پاتے۔

یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سائنس دانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ کوئی نئی چیز سیکھنے کا بہترین وقت سونے سے تھوڑی دیر پہلے ہوتا ہے اور انھوں نے رات کے وقت پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

STYبہتر نیند اور یاد داشت کے درمیان اہم تعلق ہےبہتر نیند اور یاد داشت کے درمیان اہم تعلق ہےسائنسدانوں نے وہ نظام دریافت کیا ہے جس کے ذریعے رات کی نیند انسانی یادداشت کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔2014-06-07T08:44:45+05:002014-06-07T11:39:00+05:002014-06-07T11:39:00+05:002014-06-07T11:39:00+05:00PUBLISHEDurtopcat2

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند عمر کے ابتدائی برسوں میں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

بچے بڑوں کے مقابلے پر زیادہ سوتے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں نے کہا ہے کہ بچوں کی زندگی کے پہلے سال میں نیند کے کردار کے بارے میں معلومات ’انتہائی کم‘ ہیں۔

سائنس دانوں نے چھ سے 12 ماہ کے بچوں کو ہاتھوں پر پہننے والے پتلوں کی مدد سے کچھ کھیل سکھائے۔ یہ سیکھنے کے بعد آدھے بچے چار گھنٹوں کے اندر اندر سوئے جب کہ دوسرے نصف یا تو سوئے ہی نہیں یا پھر آدھے گھنٹے سے کم وقت کے لیے سوئے۔

اگلے دن بچوں سے کہا گیا کہ وہ پچھلے دن سیکھا گیا کھیل دہرائیں۔ اس تحقیق کے نتائج پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گہری نیند سونا سیکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔

جو بچے جو خاصی دیر سوئے تھے، وہ ڈیڑھ کھیل دہرانے کے اہل تھے۔ اس کے مقابلے پر جو بچے سیکھنے کے بعد نہیں سوئے، یا کم دیر کے لیے سوئے، وہ سب کچھ بھول گئے تھے۔

یونیورسٹی آف شیفیلڈ کی ڈاکٹر جین ہربرٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جو بچے سیکھنے کے بعد سو گئے تھے، انھوں نے کھیل اچھی طرح سیکھ لیا، لیکن جو نہیں سوئے، وہ بالکل نہیں سیکھ سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ سیکھنے کے پوری طرح جاگا ہوا ہونا ضروری ہے، لیکن اس کی بجائے ’سونے سے قبل کے حالات سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘

اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ سونے سے پہلے کتابیں پڑھنا اور انھیں پڑھ کر سنانا کس قدر اہم ہے۔

گذشتہ برس ایک تحقیق میں نیند کے دوران یادداشت کے مکینزم پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ نیند کے دوران دماغی خلیوں کے درمیان نئی کڑیاں تشکیل پاتی ہیں۔

یونیورسٹی آف سرے کے نیند کے ماہر پروفیسر ڈیرک جان جک نے چھوٹے بچوں کو زیادہ سونا چاہیے، تاہم ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ تربیت کے دوران ہی اونگھا جائے۔‘