بے خوابی کا یادداشت پر اثر

دماغ کے سکین سے پتہ چلا ہے کہ بے خوابی کے شکار لوگوں کا ذہن ان لوگوں کے مقابلے مختلف ڈھنگ سے کام کرتا ہے جن کی نیند پوری ہوتی ہے۔
امریکہ کے سین ڈیاگو کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں پتہ چلا ہے جن لوگوں کو اچھی نیند نہیں آتی ان کے ذہن کو اپنی توجہ مرکوز کرنے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کا تعلق دماغ کی وائرنگ سے ہے جو کہ نیند کے احساس کو متاثر کرتی ہیں۔
<link type="page"><caption> کم خوابی رشتے بگڑنے کا سبب بنتی ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2011/01/110127_insomnia_sleep_sz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> یادداشت کمزور ہونے کا راز دریافت</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2013/08/130829_old_age_memory_loss_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’پورے چاند کی راتوں میں نیند کم آتی ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2013/07/130726_full_moon_sleep_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
نیند کے متعلق یہ تازہ تحقیق ’سلیپ‘ یعنی نیند نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
بے خوابی کے شکار افراد کو رات میں سونے میں دقت پیش آتی ہے جس کا اثر دن میں ان کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ ان میں کسی چیز کے تئیں دیر سے رد عمل اور چیزوں کا بروقت یاد نہ آنا شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحقیق کے دوران ایسے 25 افراد کا جنہیں کم خوابی کی شکایت ہے کا مقابلہ ان 25 افراد سے کیا گیا جو خود کو اچھی نیند حاصل کرنے والوں میں شمار کرتے ہیں۔
ان کے دماغ کا ایم آر آئی سکین کیا گیا اور اسی دوران ان سے یادداشت کی جانچ کے لیے تیار کردہ کافی چیلنج بھرے امتحانات لیے گئے۔
نیند پر تحقیق کرنے والے محققوں میں سے ایک پروفیسر سین ڈرمنڈ نے کہا ’ہم نے یہ جانا کہ جو لوگ بے خوابی کا شکار تھے ان کے دماغ کا وہ حصہ ٹھیک سے حرکت نہیں کررہا تھا جو کہ عملی یادداشت کے لیے اہم ہوتے ہیں اور ان کے دماغ کا وہ حصہ بھی نہیں سویا تھا جس کا اس عمل سے بظاہر کوئی تعلق نہیں تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس تحقیق سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بے خوابی کے شکار لوگوں کو صرف رات میں سونے میں تکلیف نہیں ہوتی بلکہ ان کے دماغ دن میں بھی اچھی طرح سے کام نہیں کرتے۔‘
برطانیہ میں نیند پرتحقیق کرنے والے ایک ریسرچر ڈاکٹر نیل سٹینلی کا کہنا ہے کہ ہرچند کہ دونوں گروپوں کی نیند کی کوالٹی بہت حد تک یکساں تھی تاہم ایک گروپ نے بے خوابی یا کم خوابی کی شکایت کی تھی۔
انھوں نے کہا: ’مرغی کیا ہے اور انڈا کیا ہے؟ کیا ان کے دماغ مختلف ہیں جس کی وجہ سے ان کو خراب نیند کی شکایت ہے۔‘
’شاید وہ رات میں ہونے والی چیزوں کو دوسری طرح سے لیتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو چیز ان کی کارگزار یادداشت اور توجہ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے وہی ان کی نیند کو بھی متاثر کر رہی ہو۔‘







