’پورے چاند کی راتوں میں نیند کم آتی ہے‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ رات کو پورا چاند لوگوں کی نیند پر منفی اثر ڈالتا ہے۔
محققین نے انتہائی باریکی سے ایک تجربہ گاہ میں 33 رضاکاروں کی نیند کا جائزہ لیا اور انھیں چاند کی شکل کے اثرات ملے۔
<link type="page"><caption> شراب نوشی: ’نیند لمبی لیکن پرسکون نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2013/01/130123_alcohol_sleep_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
کرنٹ باؤلوجی نامی جریدے میں شائع اس تحقیق میں پتا چلا کہ جس رات پورا چاند روشن ہوتا ہے اس رات لوگوں کو سونے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور ان کی نیند کا معیار بھی قدرے کم تر ہوتا ہے حالانکہ انھیں اندھیرے کمروں میں سونے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
پورے چاند کی راتوں میں اس تحقیق میں شریک رضاکاروں کے جسم میں میلاٹونن نامی ہارمون میں بھی کمی دیکھی گئی۔
اندھیرے میں انسانی جسم زیادہ میلاٹونن پیدا کرتا ہے جبکہ اجالے میں میلاٹونن کم ہو جاتا ہے۔
شام کے وقت زیادہ روشنی کا سامنا کرنے یا پھر دن کے دوران کم روشنی ملنے سے بھی انسانی جسم میں میلاٹونن کی مقدار پر اثر پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم سوئٹزرلینڈ کی بیزل یونیورسٹی کے محققین کی حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چاند کے اثرات کا تعلق روشنی سے نہیں ہے۔
تحقیق کے شرکا کو اس کا مقصد معلوم نہیں تھا اور وہ اپنے بستروں سے چاند کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔
ہر رضاکار نے تجربہ گاہ میں زیرِ نگرانی دو راتیں گزاریں۔
نتائج کے مطابق پورے چاند کی راتوں کے قریب گہری نیند سے متعلق ’برین ایکٹوٹی‘ یعنی ذہن کے کام کرنے کا عمل تقریباً ایک تہائی گر گیا اور میلاٹونن کی سطح میں بھی کمی ہوئی۔
پورے چاند کی راتوں میں رضاکاروں کو سونے میں پانچ منٹ زیادہ لگے اور مجموعی طور پر وہ بیس منٹ کم سوئے۔
پروفیسر کاہوچن کا کہنا ہے: ’چاند انسانی نیند پر اثر انداز ہوتا ہے چاہے اس شخص کو چاند نظر بھی نہ آ رہا ہو اور اسے چاند کی شکل کے مرحلے کا بھی نہ پتا ہو۔‘
محققین کا کہنا ہے کہ چند افراد کی نیند چاند کے حوالے سے قدرے زیادہ حساس بھی ہوتی ہے۔
اس تحقیق کا ابتدائی مقصد چاند کے اثرات معلوم کرنا نہیں تھا۔ یہ تحقیق پہلے سے اکٹھی کی گئی معلومات کے ذریعے کی گئی۔ سائنسدانوں نے اپنے ڈیٹا میں اس بات کا اندازہ لگانا شروع کیا کہ جن راتوں میں وہ شرکا کے سونے کے بارے میں معلومات جمع کر رہے تھے، ان میں سے کون سی راتوں میں پورا چاند تھا۔
نیند پر تحقیق کرنے والے برطانوی ڈاکٹر نیل سٹینلی کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اس چھوٹی سی تحقیق میں اہم نتائج سامنے آئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’چاند کی اتنی اہم ثقافتی کہانی ہے کہ یہ بات حیران کن نہیں کہ اس کے اثرات ہوں گے۔ یہ ایسی لوک کہانی ہے جس میں شاید کچھ صداقت ہو۔‘
تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کی چاند کے نیند پر اثرات کا سبب کیا ہے۔ ڈاکٹر سٹینلی کہتے ہیں: ’یہ اب سائنس کا کام ہے کہ وہ جانچے کہ ہم پورے چاند کی راتوں پر مختلف انداز میں کیوں سوتے ہیں۔‘







