’76 ہزار جہادیوں کو ملک چھوڑنے سے روکا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلیا میں پولیس حکام نے ہوائی اڈوں پر سینکڑوں کی تعداد میں ایسے مسافروں کو روکا ہے، جو ممکنہ طور پر جہاد میں شامل ہونے کے لیے ملک چھوڑ کر جا رہے تھے۔
آسٹریلیا میں تشکیل دیے گئے انسدادِ دہشت گردی یونٹ کے خصوصی یونٹ نے گزشتہ سال اگست سے فروری 2015 تک ملک کے آٹھ ہوائی اڈوں پر تقریبا 76 ہزار افراد کو ’عین اُس وقت‘ روکا جب وہ ملک چھوڑنے والے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی سکرینگ اتفاقیہ طور پر نہیں کی گئی بلکہ پولیس نے مشکوک دکھائی دینے والے افراد سے پوچھ گچھ کی۔
ایک اندازے کے مطابق آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے 90 جہادیوں نے مشرق وسطی کی لڑائی میں حصہ لیا۔
آسٹریلیا نے انتہا پسند افراد جو کہ دولتِ اسلامیہ جیسی انتہا پسند تنظیموں میں شامل ہونا چاہتے ہیں، کا پتہ لگانے کے لیے انسداد دہشت گردی کا خصوصی یونٹ تشکیل دیا ہے۔
مہاجرین کے وزیر کے ترجمان نے بتایا کہ ’خصوصی یونٹ نے ایسے کئی افراد کو پکڑا ہے، جو ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔‘
فئیر فیکس میڈیا کے مطابق کاونٹر ٹیرریزم یونٹ یعنی سی ٹی یو کی ٹیم نے سڈنی اور میلبرن سے 11 مشتبہ دہشت گردوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان افراد کے قبضے سے جہادی مواد بھی ملا ہے۔
کسٹم اور باڈر پروٹیکشن سروس کا کہنا ہے کہ کثیر رقوم کی منتقلی کے شواہد بھی ملیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خصوصی فورس کے ان اقدامات کے بعد یہ الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں کہ ان کا مقصد ملک کی مسلمان آبادی کو نشانہ بنانا ہے۔ آسڑیلیا میں ایک سینئیر مسلمان عالم ابراہیم ابو محمد نے کہا تھا کہ یہ اقدامات ’سخت دباؤ اور غیر ضروری تکلیف‘ کی وجہ بنیں گے۔
آسٹریلیا کے وزیر برائے سوشل سروس سکاٹ موریثن نے سوموار کو نامہ نگاروں سے بات چیت میں حضوصی یونٹ کے اقدامات کو نسلی رخ دینے کے تاثر کو یکسر مسترد کیا۔مسٹر موریثن جن کی سربراہی میں کاونٹر ٹیرریزم یونٹ یعنی سی ٹی یو تشکیل دیا گیا تھا، کا کہنا ہے کہ خصوصی یونٹ کی کاررکردگی بہت اچھی ہے۔
حکومت نے ملک کے آٹھ ہوائی اڈوں پر سکیورٹی بڑھانے کے لیے کاونٹر ٹیرریزم یونٹ تشکیل دیا ہے۔ جس کا بجٹ 63 کروڑ ڈالر مختص کیا گیا ہے۔







