دولتِ اسلامیہ کا ’جہادی جان‘ لندن کا رہائشی برطانوی نکلا

محمد ایموازی تمام ویڈیوز میں سیاہ عبا پہنے دکھائی دیے تھے جبکہ ان کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا

،تصویر کا ذریعہna

،تصویر کا کیپشنمحمد ایموازی تمام ویڈیوز میں سیاہ عبا پہنے دکھائی دیے تھے جبکہ ان کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا

مغربی مغویوں کی ہلاکت کی ویڈیوز میں دکھائی دینے والے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے اس رکن کو شناخت کر لیا گیا ہے جو’جہادی جان‘ کے نام سے معروف تھا۔

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس کویتی نژاد برطانوی شخص کا نام محمد ایموازی ہے اور وہ مغربی لندن سے تعلق رکھتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی سکیورٹی ایجنسیوں نے محمد ایموازی پر ماضی میں نظر رکھی ہوئی تھی۔

ان اداروں نے اس سے پہلے بعض آپریشنل وجوہات کی وجہ سے محمد ایموازي کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی۔

محمد ایموازی کو پہلی بار گذشتہ برس اگست میں دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری کی گئی اس ویڈیو میں دیکھا گیا تھا جس میں امریکی صحافی جیمز فولی کا سر قلم کرتے دکھایا گیا تھا۔

اس کے بعد وہ امریکی صحافی سٹیون سوتلوف، برطانیہ امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز، برطانوی ٹیکسی ڈرائیور ایلن ہیننگ اور امریکی امدادی کارکن عبدالرحمن کیسگ کی ہلاکتوں کی ویڈیو میں بھی دکھائی دیے تھے۔

محمد ایموازی آخری بار جاپانی مغوی کی ہلاکت کی ویڈیو میں دکھائی دیے تھے

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنمحمد ایموازی آخری بار جاپانی مغوی کی ہلاکت کی ویڈیو میں دکھائی دیے تھے

ان تمام ویڈیوز میں وہ سیاہ عبا پہنے دکھائی دیے تھے جبکہ ان کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا اور صرف ان کی ناک اور آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔

برطانوی لہجے میں انگریزی بولنے والے ایموازی نے ان ویڈیوز میں مغویوں کو بظاہر ہلاک کرنے سے قبل اپنی تقریر میں مغربی طاقتوں پر طنز کیا اور انھیں دھمکیاں بھی دی تھیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ محمد ایموازي سنہ 2006 میں صومالیہ گئے اور مبینہ طور پر ان کا تعلق شدت پسند تنظیم الشباب سے رہا ہے۔

ایموازی کے رفقا نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ ان کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے ہے اور انھوں نے یونیورسٹی سے کمپیوٹر پروگرامنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ خیال یہی ہے کہ وہ 2012 کے آس پاس شام گئے جہاں انھوں نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی۔

برطانوی پولیس نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کمانڈر رچرڈ والٹن کا کہنا ہے کہ ’ہم اس موقع پر کسی کی بھی شناخت کی تصدیق نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی جاری کارروائی کے بارے میں معلومات دے سکتے ہیں۔‘