روس: نیمتسوو قتل کیس میں دو مشتبہ ملزم گرفتار

روسی صدر نے بورس نیمتسور کے قتل کی تحقیقات کی نگرانی خود کرنے کا اعلان کیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنروسی صدر نے بورس نیمتسور کے قتل کی تحقیقات کی نگرانی خود کرنے کا اعلان کیا تھا

روس کی وفاقی سکیورٹی سروس کے مطابق صدر پوتن کے ناقد سیاستدان بورس نیمتسوو کے قتل کے کیس میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

روسی سکیورٹی سروس’ایف ایس بی‘ کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورتنکوف کے مطابق حراست میں لیے جانے والے دونوں افراد کا تعلق قفقاز کے خطے سے ہے۔

اس کیس کی تحقیقات کرنے والے حکام کے مطابق دونوں مشتبہ افراد ملزم کا انتظام کرنے اور اسے قتل کے لیے ماسکو لانے میں ملوث ہیں۔

بورس نیمتسوو صدر پوتن کے شدید ناقد تھے اور ان کو 27 فروری کو کریملن کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

روسی سکیورٹی سروس’ایف ایس بی‘ کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورتنکوف کی جانب سے خود ٹی وی پر براہ راست دو مشتبہ افراد کی گرفتاری کے بارے میں اعلان کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی صدر اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

الیگزینڈر بورتنکوف نے یہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ مشتبہ افراد کی گرفتاری کس طرح عمل میں آئی تاہم یہ بتایا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ ابھی تک ان افراد کے خلاف باضابطہ طور پر کیس دائر نہیں کیا گیا ہے۔

اس کیس کی تحقیقات سے متعلق جاننے والے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر روس کی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کو بتایا کہ مشتبہ افراد کی جانب سے استعمال کی جانے والی گاڑی کے فوری طور پر مل جانے اور اس سے حاصل ہونے والی اہم معلومات اور ٹیلی فون ریکارڈز کی مدد سے مشتبہ افراد کو شناخت کرنے میں مدد ملی۔

سکیورٹی حکام کو جائے وقوعہ کے نزدیک نصب سکیورٹی کیمروں کی مدد سے مشتبہ افراد کو شناخت کرنے میں خاصی مدد ملی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو نفرت انگیز اور ان کے قاتلوں کو حقیر قرار دیتے ہوے کہا تھا کہ وہ ہلاکت میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

تاہم حزب اختلاف کے رہنما ایلکسی نیولنے نے الزام عائد کیا ہے کہ نیمتسوو کے قتل کے احکامات کریملن نے دیے تھے تاہم روسی حکومت پر معاشی مسائل کی وجہ سے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

اس سے پہلے گذشتہ ہفتے بورس نیمتسوو کی آخری رسومات ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تاہم اس میں ملک کی حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں اور یورپی یونین کے کئی سیاستدانوں کو شرکت سے روک دیا گیا تھا۔

گذشتہ اتوار کو ماسکو میں ہزاروں افراد نے مقتول سیاست دان کی یاد میں تعزیتی جلوس نکلا تھا۔