روس میں نیمتسوو کی آخری رسومات میں شرکت پر’پابندیاں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
روس نے ملک کی حزب اختلاف کے کئی رہنماؤں اور یورپی یونین کے کئی سیاستدانوں کو قتل کیے جانے والے روسی سیاستدان بورس نیمتسوو کی آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔
شرکت کے خواہش مند پولینڈ کے ایک سیاستدان کو ویزہ نہیں دیا گیا اور لیٹویا کے ایک ممبر یورپین پارلیمنٹ کو ماسکو سے واپس بھیج دیا گیا۔
حزب اختلاف کے رہنما ’ایلکسی نیولنے‘جو 15 دن کی جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں کو بھی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں ملی۔
سوگوار ماسکو کے شکرؤ سینٹر کے پاس جمع ہیں جہاں بورس نیمتسوو کا تابوت رکھا گیا ہے۔
ان کی تدفین بھی ’ٹروکروسکو‘ کے قبرستان میں ہو گی جہاں مقتول صحافی ’اینا پولیکوکیٹا‘ کو 2006 میں دفن کیا گیا تھا۔
اتوار کو ان کی یاد میں ایک تعزیتی جلوس بھی نکالا گیا تھا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ متقول سیاسی رہنما نے بھی اتوار کو حکومت مخالف منعقد ہونے والے اسی جلوس میں شرکت کرنا تھی تاہم ان کی ہلاکت کے بعد احتجاجی جلوس کو تعزیتی جلوس میں بدل دیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ بورس نیمتسوو جو صدر پوتن کے شدید ناقد تھے اور ان کو جمعے کے روز کریملن کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ان کے قتل کے الزام میں تاحال کوئی گرفتاری عمل نہیں آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو نفرت انگیز اور ان کے قاتلوں کو حقیر قرار دیتے ہوے کہا تھا کہ وہ ہلاکت میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
صدر نے اس معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا فیصلہ بھی کیا ہے تاہم بورس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کے قتل کی وجوہات سیاسی ہیں اور اس کا تعلق ولادیمیر پوتن کی مخالفت اور یوکرین کے تنازع سے ہی ہے۔
دوسری جانب حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی فوری، غیر جانبدار اور موثر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’ملک میں کھلے عام تنقید کرنے والوں میں سے ایک اور جنھیں حکام خاموش کرانا چاہتے تھے میں سے ایک کے ظالمانہ انداز میں قتل کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔‘







