روس میں بورس نیمتسوو کی یاد میں تعزیتی مارچ

،تصویر کا ذریعہAFP
روسی کے دارالحکومت ماسکو میں صدر پوتن کے ناقد مقتول سیاستدان بورس نیمتسوو کی یاد میں ہزاروں افراد تعزیتی جلوس نکال رہے ہیں۔
شہر میں ہزاروں افراد نے کریملن کے قریب اس مقام پر پھول رکھے اور شمعیں روشن کی ہیں جہاں جمعے کو بورس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
بورس نیمتسوو نے روسی حکومت کی پالیسی کے خلاف اتوار کو اسی جگہ پر ایک جلوس میں شامل ہونا تھا تاہم بورس کی ہلاکت کے بعد اسے ایک تعزیتی ریلی کی شکل دے دی گئی ہے۔
پہلے جلوس کے شرکا ماسکو کے ایک میٹرو سٹیشن سے اس پل تک مارچ کر رہے ہیں جہاں بورس کو قتل کیا گیا تھا۔
ماسکو کے علاوہ سینٹ پیٹرز برگ میں بھی ہزاروں افراد نیمتسوو کی ہلاکت کے خلاف جلوس میں شامل ہیں۔
یہ ریلی برطانوی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے شروع ہوئی۔حکام کی جانب سے 50 ہزار افراد کو اس جلوس میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی ہے تاہم منتظمین کے مطابق مظاہرین کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ریلی میں شامل زیادہ تر لوگوں نے قومی پرچم اور پھول تھام رکھے ہیں جبکہ بعض کے ہاتھ میں یوکرین کا پرچم بھی ہے۔
ریلی میں لوگوں نے کتبے بھی اٹھا رکھے ہیں جن پر تحریر ہے:’ تم روس کے مستقبل کے لیے مارے گئے اور وہ تم سے خوفزدہ تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ وہ اپنے ناقد اور ملک میں حزبِ اختلاف کے سرکردہ رہنما بورس نیمتسوو کی ہلاکت میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
روسی صدر پوتن نے بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو نفرت انگیز اور ان کے قاتلوں کو حقیر قرار دیا۔
صدر نے اس معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا فیصلہ بھی کیا ہے تاہم بورس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کے قتل کی وجوہات سیاسی ہیں اور اس کا تعلق ولادیمیر پوتن کی مخالفت اور یوکرین کے تنازع سے ہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر کی جانب سے بورس نیمتسوو کی 86 سالہ والدہ ڈائنا ایڈمین کو بھیجے جانے والے ٹیلی گراف میں انھوں نے تعزیت کرتے ہوئے نیمتسور کی ایمانداری اور کھلے پن کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’برائے مہربانی اپنے ناقابل واپسی نقصان پر دل کی گہرائی سے میری تعزیت قبول کریں، میں پورے خلوص سے آپ کے غم میں شریک ہوں۔‘
روسی صدر کے مطابق’ بورس نیمتسوو نے روس کی تاریخ، سیاست اور عوامی زندگی پر اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ ملک میں تبدیلی کے اہم موقعے پر وہ قابل ذکر عہدوں پر فائز رہے۔ انھوں نہ ہمیشہ اپنے خیالات کا اظہار کھلے عام اور ایمانداری سے کیا۔‘
امریکہ اور یوکرین کے صدور نے اس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے بھی بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔
یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو نے اپنے پیغام میں بورس نیمتسوو کو روس اور یوکرین کے درمیان پل قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس واقعے کو افسوسناک اور پریشان کن قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی فوری، غیر جانبدار اور موثر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’ملک میں کھلے عام تنقید کرنے والوں میں سے ایک اور جنھیں حکام خاموش کرانا چاہتے تھے میں سے ایک کے ظالمانہ انداز میں قتل کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔‘
بورس نیمتسوو روسی صدر کے بڑے ناقدین میں سے تھے اور حال ہی میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ یوکرین میں جنگ کی مخالفت کی وجہ سے ولادیمیر پوتن انھیں مروا سکتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل انھوں نے روس کی ایک نیوز ویب سائٹ سوبیسدنک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اپنی جان کا خطرہ ہے اور 10 فروری کو ایک مضمون میں انھوں نے لکھا کہ مجھے ڈر ہے کہ پوتن مجھے مروا دے گا۔
نیمتسوو کی عمر 55 سال تھی اور سابق صدر بورس یلسن کے تحت نائب وزیراعظم رہ چکے تھے۔
ان کے موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ واضح اختلافات سامنے آئے اور وہ ان کے ایک بے باک مخالف کے طور پر ابھرے تھے۔







