سعودی عرب اور اسرائیل، دو ایران مخالف ’دوست‘

سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایران کے فوجی اب کھلے عام عراق میں مداخلت کر رہے ہیں

سعودی عرب کے تجزیہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے وزیرِاعظم کی تقریر کو سراہیں۔

اور اس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نتن یاہو کے امریکی کانگریس کے اراکین سے کیے گئے خطاب کا موضوع ہی ایران کا خطرہ تھا۔

اپنے بہت زیادہ اختلافات کے باوجود بھی سعودی عرب اور اسرائیل ایک طویل عرصے سے مشترکہ طور پر خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور فوجی صلاحیت کے متعلق تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

یہ اثر لبنان میں حزب اللہ کی پرورش اور شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت میں صاف نظر آ رہا ہے، ابھی صدام حسین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد وہاں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بات نہیں ہو رہی۔

لیکن گزشتہ تین برسوں سے ایران کے کردار اور اس کی جغرافیائی رسائی کے خدوخال میں تبدیلی آئی ہے جس کی وجہ سے علاقے کی کئی دارالحکومتوں میں خطرے کی گھنٹی بجی ہے۔

ستمبر میں اس کی ایک جھلک اس وقت سامنے آئی جب یمن کے دارالحکومت صنعاء پر حوثی قبائل نے قبضہ کر لیا جو کہ شیعہ اسلام کی زیدی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایران کے ایک سخت گیر موقف رکھنے والے رکنِ پارلیمان کے حوالے سے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران اب چار عرب دارالحکومتوں کو کنٹرول کر رہا ہے۔ بیروت، دمشق، بغداد اور صنعاء۔‘

ہو سکتا ہے کہ یمن میں حوثی قبائل کے لیے ایران کی حمایت مشاورت کی حد تک ہو، اگرچہ عرب ممالک کہیں گے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

 تکریت کی لڑائی میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا اہم کردار ادا کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن تکریت کی لڑائی میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا اہم کردار ادا کر رہی ہے

لیکن بغداد میں ہونے والے واقعات کے بعد تو لگتا ہے کہ ایران اب کھلے عام مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔

عراق میں دولت اسلامیہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش قدمی کی وجہ سے عراق کی فوج تتر بتر ہوتی نظر آئی اور صرف شیعہ ملیشیا فورسز ہی تھیں جنھوں نے سنی انتہا پسندوں کو بغداد پر قبضہ کرنے سے روکے رکھا۔

ان ملیشیا فورسز ہی نے، جن میں سے چند ایک کو ایران نے تشکیل دیا اور فنڈز دیے ہیں، کئی معرکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور چھینے گئے علاقے واپس دلوائے ہیں۔ ان میں تکریت کی کارروائی بھی شامل ہے۔ اس میں ایران کی حمایت ہتھیاروں، آلات اور مشاورت پر مشتمل ہے۔

ایرانی حمایت کا سب سے زیادہ نمایاں چہرہ جنرل قاسم سلیمانی ہیں جو پاسدارانِ انقلاب کی ایلیٹ فورس کے ایک کمانڈر تھے۔ لیکن چھ ماہ میں وہ اب پس منظر سے نکل کر سامنے آ گئے جنھیں فرنٹ لائن پر فوجیوں کے ساتھ تصویریں کھنچوانا اچھا لگتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے تکریت کی لڑائی میں جنرل سلیمانی کے کردار کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی وزیرِ خارجہ نے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے ساتھ جمعرات کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران عراق پر قبضہ کر رہا ہے۔

یہ صرف عراق ہی نہیں جہاں ایران کے فوجی زیادہ نظر آ رہے ہیں۔

جنوبی شام میں باغیوں کے خلاف حالیہ کارروائی میں بھی مبینہ طور پر ایرانی فوجی حزب اللہ اور حکومتی افواج کے ساتھ مل کر لڑے ہیں۔

ایران نے جنوری میں تسلیم کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک جنرل اس علاقے میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔