نتن یاہو کوئی قابلِ عمل متبادل دینے میں ناکام رہے: اوباما

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو امریکی کانگریس سے اپنے خطاب میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے کوئی قابلِ عمل متبادل نہیں دے پائے ہیں۔
نتن یاہو نے منگل کو اپنے متنازع خطاب میں خبردار کیا تھا کہ <link type="page"><caption> ایران ’پوری دنیا کو درپیش ایک خطرہ‘ ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2015/03/150303_netanyahu_iran_global_threat_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مجوزہ معاہدہ اس کی جوہری سرگرمیاں روکنے کی بجائے جوہری بم کے حصول کی راہ ہموار کر دے گا۔
صدر اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کی اس تنبیہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تقریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ان کی تقریر سننے کا موقع نہیں ملا تاہم اس کا متن دیکھنے کا موقع ملا ہے جہاں تک میں بتا سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔‘
صدر اوباما نے کہا کہ وہ نتن یاہو کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کا تعلق ٹوٹ نہں سکتا اور اس پر بھی کہ خطے میں ایران کی سرگرمیاں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے خلاف ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی بھی اختلاف نہیں کر سکتا کہ ایران مسلسل بنیادوں پر اسرائیل کو دھمکیاں اور یہود مخالف بیانات دیتا ہے۔
’تاہم بنیادی مسئلہ کہ ہم ایران کو کیمیائی ہتھیاروں کے حصول سے کیسے روک سکتے ہیں، جو کہ اسے خطے میں کاروائیاں کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے بہت زیادہ خطرناک بنا سکتا ہے کے لیے وزیراعظم نے کسی بھی قابلِ عمل متبادل کی پیشکش نہیں کی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی تقریر میں تسلیم کیا کہ ان کی تقریر متنازع ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر زیربحث معاہدہ ایران کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی راہ آسان کرے گا۔
ادھر ایران کے ساتھ امریکہ سمیت چھ ممالک کی ممکنہ ڈیل پر بات کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ جس معاہدے پر ہم بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو ابھی مکمل نہیں ہوا وہ ایران کو ان مختلف راستوں کی جانب بڑھنے سے روک دے گا، جن کی مدد سے وہ جوہری صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کی وجہ سے ایران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے جانچ پڑتال اور معائنے کے سخت ترین عمل سے گزرنا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
براک اوباما نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ وزیراعظم نتن یاہو جس متبادل کی پیشکش کر رہے ہیں اس پر عمل سےایران فوری طور پر اپنے جوہری پروگرام کو اگے بڑھائے گا اور اسے تیز کرے گا۔
وائٹ ہاؤس نے اس بات پر شکوہ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی یہ تقریر امریکہ کے اندورنی معاملات میں مداخلت ہے اور ایران کے ساتھ کسی متوقع معاہدے کے خلاف ملک کے اندر مخالفت کو بڑھاوا دینے کی کوشش ہے۔
یاد رہے کہ یہ نتن یاہو نے اسرائیل میں انتخابات کے صرف دو ہفتے قبل یہ تقریر کی ہے جہاں بنیامن نتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے انتخاب میں حصہ لیں گے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات کے لیے مارچ میں ایک معاہدہ ہونا ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس کے بدلے میں ایران پر پابندیوں کو نرم کیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری سوئٹزرلینڈ میں اپنے ایرانی ہم منصب جاوید ظریف کے ساتھ معاہدے کے فریم ورک پر بات کر رہے ہیں تاکہ 31 مارچ کی ڈیڈ لائن سے قبل اسے طے کیا جا سکے۔







