تکریت پر سے قبضہ چھڑانے کے لیے شدید لڑائی، ہزاروں خاندان بے گھر

،تصویر کا ذریعہAP
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ سے عراقی شہر تکریت کا قبضہ چھڑانے کے لیے ہونے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً 28 ہزار ہے۔
بےگھر افراد سمارا شہر کی جانب جا رہے ہیں جبکہ ان میں سے بہت سے خاندان چیک پوسٹوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں کی جانب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان بھیجا گیا ہے۔
تکریت شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے چار دن سے جاری آپریشن میں 30 ہزار فوجی اور شیعہ ملیشیا حصہ لے رہے ہیں۔
بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق فوج دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ان کی پیش قدمی کا عمل سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بموں کی وجہ سے سُست ہے۔
عراقی بمبار طیارے اور ہیلی کاپٹر زمینی افواج کو مدد فراہم کر رہے ہیں لیکن ان میں امریکی اتحادی جہاز شامل نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق فضائی حملوں سے بچنے کے لیے جمعرات کو جہادیوں نے شہر کے باہر موجود تیل کے کنوؤں کو بھی آگ لگا دی تاکہ وہاں دھوئیں کے بادل بن سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عراقی جنرل عبدالوہاب السعادی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ تیل کے کنوؤں کے جلنے سے آپریشن اثر انداز نہیں ہوگا۔ لیکن جیسے جیسے لڑائی آگے بڑھےگی شہری آبادی کے لیے خدشات میں اضافہ ہوگا۔
اطلاعات کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد میں اضافہ ہونے والا ہے جس کا مطلب ہے کہ چیک پوسٹ پر پھنسنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
وائٹ ہاؤس اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سُنی اکثریتی علاقے میں شیعہ ملیشیا کی طرف سے فرقہ وارانہ انتقامی کارروائیوں کےخطرے سے خبردار کیا ہے۔
گزشتہ برس ملیشیا کے سربراہ نے بھی اپنے سینکڑوں اہلکاروں کے قتلِ عام کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
بدھ کو عراق کے فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج نے تکریت اور کرکک شہر کے درمیان المائبدی گاؤں کےساتھ ساتھ قریبی تیل کے ذخیروں پر بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
ذرایع نے مزید بتایا کہ یہ راستہ دولتِ اسلامیہ کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا کیونکہ وہ صلاح الدین اور دیالہ صوبے کے درمیان سپلائی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔







