سکھ لڑکا جس کے ہم جماعت اسے ’دہشت گرد‘ کہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہYoutube
ایک سکھ لڑکے نے امریکی ریاست جارجیا میں سکول میں اپنے ہم جماعتوں کی جانب سے طنز اور نسل پرستی پر مبنی چھڑ چھاڑ کے خلاف اپنے آپ کو سکول کی بس میں فلمبند کیا۔
اس ویڈیو کو اب تک 5 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے اور اس کے نتیجے میں سکول میں تنگ کیے جانے کے موضوع پر ایک بحث چھڑ گئی ہے۔
اس فلم میں ایک سکھ لڑکا کیمرے کو اپنے چہرے پر کر کے فلمبندی شروع کرتا ہے جبکہ اس کی ایک کلاس فیلو لڑکی اس کے پیچھے چیختے ہوئے سنی جا سکتی ہے جو اسے ’دہشت گرد، دہشت گرد‘ کہہ رہی ہے اور اس پر الزام لگانے کے رنگ میں اشارہ کرتی ہے۔
لڑکے نے اپنے سر پر پٹکا باندھا ہوا ہے جو سکھ بچے روایتی طور پر اپنے سر پر باندھتے ہیں اور وہ کیمرے پر کہتا ہے کہ ’بچے مجھ سے نسل پرستی کا برتاؤ کرتے ہوئے‘۔
لڑکی اسے کہتی ہے کہ ’ہماری فلم بنانا بند کرو‘ مگر لڑکا اس بند کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ’میں نہیں ایسا کروں گا اگر آپ میرے ساتھ نسل پرستی پر مبنی برتاؤ رکھوں گے۔‘
جس کے بعد وہ اس لڑکی کو برا بھلا کہتے ہیں اور غصے میں کہتے ہیں ’کسے پرواہ ہے‘ مجھے کوئی پروا نہیں۔‘
انہوں نے اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو اپ لوڈ کی تاہم اب اُن کی ویڈیو پرائیویٹ کر دی گئی ہے مگر یوٹیوب پر دوسرے لوگوں نے اس کی نقل بنا کر اپ لوڈ کر دی ہے۔
اصل ویڈیو کی نقل شدہ ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے بعد اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ بار دیکھی جا چکی ہیں اور ان کے نیچے مختلف لوگوں نے متفرق خیالات کا اظہار کیا ہے جن میں سے کچھ میں اُن سے ہمدردی کا اظہار کیا کہ ’میں اس بچے کی ہمت کی داد دیتا ہوں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہت سے اس بات پر حیرت زدہ تھے کہ ایک لڑکی کیوں ایک سکھ بچے کو دہشت گرد کہے گی جو اس مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا ہے اور اس میں بہت سے نسل پرستی پر مبنی بیانات بھی ہیں۔
تاہم ریڈ اِٹ پر بحث بہت بہتر تھی جہاں پر اس ویڈیو کو 3500 اپ ووٹ ملے ہیں جس میں لوگوں نے اپنے ساتھ ہونے والے اس طرح کے برتاؤ کے واقعات کا ذکر کیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ لڑکا امریکہ کی جنوبی ریاست جارجیا میں ایک سکول میں پڑھتا ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ اس نے یہ ویڈیو بنانے کا فیصلہ کیوں کیا۔







