لندن پولیس کو چیلسی شائقین ’نسل پرست نعروں‘ پر مطلوب

برطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس اس بارے میں معلومات ہوں تو وہ اس سے رابطہ کرے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس اس بارے میں معلومات ہوں تو وہ اس سے رابطہ کرے

لندن کی پولیس سینٹ پینکرس سٹیشن پر پیرس میں چیمپیئنز لیگ کے میچ سے واپس آنے والے لوگوں کی جانب سے نسل پرست نعرے لگانے کی تفتیش کر رہی ہے جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ چیلسی کے مداح ہیں۔

یہ واقعہ لندن کے سٹیشن پر بدھ کو پیش آیا جبکہ منگل کو پیرس کی میٹرو کی ایک ویڈیو منطر عام پر آئی ہے جس میں مبینہ طور پر چیلسی کے مداح ایک سیاہ فام شخص کو ٹرین سے دھکا دے کر باہر نکال رہے ہیں۔

پیرس میں منگل کو چیلسی اور پیرس سینٹ جرمین کلب کا مقابلہ ایک ایک سے برابر رہا تھا۔

برطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس اس بارے میں معلومات ہوں تو وہ رابطہ کرے۔

چیلسی فٹبال کلب نے پیرس میں ہونے والے واقعے کے بعد اپنے پانچ حامیوں پر سٹیمفرڈ برج میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

چیلسی کے مینیجر ہوزے مورینہو نے کہا ہے کہ وہ ان مبینہ نسل پرست نعروں پر ’شرمندہ‘ ہیں۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے ان تین افراد کی سی سی ٹی وی تصاویر جاری کی ہیں جن کی انھیں تلاش ہے۔

برطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس کی سپرنٹنڈنٹ گِل مرے نے ان نئے الزامات کے بارے میں کہا ہے کہ نسل پرست نعرے لگانے والوں کے بارے میں ایک شخص نے ٹرین پر سفر کےدوران پولیس کو اس بارے میں اطلاع دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ پیرس سے ٹرین پر سفر کر رہے ہوں اور اس حوالے سے آپ کے پاس کوئی اطلاع ہو تو میں آپ سے درخواست کروں گی کہ آپ ہماری مدد کریں۔‘

برطانیہ کی ٹرانسپورٹ پولیس کی سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ ایسے رویے کی ’کھلے عام مذمت‘ کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور پولیس اس مسئلے کے حوالے سے دیگر فٹبال کلبوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

 ایسے رویے کی ’کھلے عام مذمت‘ کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے: پولیس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن ایسے رویے کی ’کھلے عام مذمت‘ کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے: پولیس

خیال رہے کہ منگل کو فرانس میں ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں چیلسی فٹ بال کلب کے حامی ایک سیاہ فام شخص کو دھکے دے کر ٹرین سے نکال رہے تھے۔

موبائل فون پر بنائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک سیاہ فام شخص مسلسل پر ہجوم میٹرو ٹرین میں سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن اسے بار بار باہر دھکیل دیا جاتا تھا۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ٹرین میں سوار ہونے سے روکنے والے 33 سالہ سیاہ فام شخص سلیمان نے فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ انھیں ٹرین میں سوار ہونے سے روکنے والے انگلش مداحوں کو گرفتار کیا جائے۔

بی بی سی ریڈیو فائیو سے بات کرتے ہوئے سلیمان نے کہا کہ نسل پرست نعروں سے انھیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔

’کیا ہم سنہ 2015 میں نہیں رہ رہے ہیں، ہم فرانس میں تھے جو ایک مہذب ملک ہے اور جب آپ ایک مہذب ملک میں رہ رہے ہوں تو آپ کو ایسی حرکتیں نہیں کرنی چاہییں۔

سیاہ فام شخص سلیمان نے کہا ’میرے لیے یہ بے عزتی ہے، میں اپنے ملک میں بے عزت ہوا، میں اپنے خاندان کے سامنے بے عزت ہوا یہاں تک کہ میں اپنے والدین کے سامنے بے عزت ہوا۔‘